یہ تینوں ممالک اناج اور دیگر زرعی مصنوعات کے لیے اپنی سرحدیں یوکرین کے لیے بند کیے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے کسان کم قیمت یوکرینی زرعی مصنوعات کے مقابلے کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ برسلز اس بات پر زور دیتا ہے کہ نیا تجارتی معاہدہ کمزور شعبوں کے لیے ضمانتیں فراہم کرتا ہے۔
یوکرین کے ساتھ تجدید شدہ تجارتی معاہدہ گزشتہ ہفتے شروع ہوا۔ یورپی کمیشن کے مطابق یہ معاہدہ یوکرینی معیشت کی مدد اور EU کے کسانوں کے تحفظ کے درمیان توازن دیتا ہے۔
کمیشن اب تینوں حکومتوں سے بات چیت کر رہا ہے تاکہ انہیں قائل کیا جا سکے کہ وہ اپنی تجارتی پابندیاں ختم کریں۔ اگر یہ بات چیت بے نتیجہ رہی تو برسلز یورپی عدالت انصاف میں قانونی کارروائی کا امکان رد نہیں کرتا۔
تاہم پولش اور ہنگری کے وزراء برائے زراعت اپنی پوزیشن پر قائم ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یورپی کمیشن یوکرین کے لیے بہت زیادہ ہمدردی رکھتا ہے اور اپنے کسانوں کی صورتحال کا کم خیال کرتا ہے۔ سلوواکیہ بھی نئی معاہدے میں موجود ضمانتوں کو ناکافی تحفظ سمجھتا ہے۔
یہ تنازعہ صرف زراعت تک محدود نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔ پولینڈ، ہنگری اور سلوواکیہ میں یہ مسئلہ حساس ہے خاص طور پر وہ کسان جنہیں یوکرینی سستی درآمدات کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ، ہنگری اور سلوواکیہ EU میں ماسکو نواز رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور کیف کی جانب سے زیادہ فوجی اور مالی امداد کے خلاف ہیں۔
یورپی کمیشن نے درآمدی پابندیوں کو 'اندرونی بازار کے قواعد کے خلاف' قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ EU کی مشترکہ تجارتی پالیسی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ تاہم برسلز نے آغاز میں کہا کہ قانونی دباؤ کی بجائے بات چیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔
زرعی درآمدات کے تنازعہ کے پیچھے ایک بڑی بحث بھی ہے: یوکرین کا یورپی یونین میں شمولیت کے مذاکرات۔ یوکرینی زراعتی شعبے کی بہت بڑی حجم اور یورپی کسانوں کے شعبے کے درمیان وسیع فرق ان مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

