یہ پیدا شدہ توانائی اس وقت پلانٹ پر ہی بجلی اور حرارت کی پیداوار کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور مقامی توانائی کمپنی Klejtrup Varmeværk کو فراہم کی جاتی ہے۔ گیسوم ڈینش پلانٹ کی اپ گریڈنگ میں سرمایہ کاری کرنے اور اسے ایک بڑے گیس نیٹ ورک سے منسلک کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ پیداواری صلاحیت کو مکمل طور پر استعمال کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ، گیسوم سویڈن میں پانچ نئے بائیو گیس پلانٹ تعمیر کر رہا ہے، جن میں سے پہلا پلانٹ 2025 کے آغاز میں پیداوار شروع کرے گا۔ اس توسیع کے مکمل ہونے سے سالانہ 1.8 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کمی ممکن ہو سکتی ہے۔ بائیو گیس روایتی فوسل ایندھن کے مقابلے میں ماحول کے لیے بہت کم نقصان دہ ہے، اور اگر اسے ہتھڑی سے بنایا جائے تو کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراجات منفی بھی ہو سکتے ہیں۔
ناروے میں، فن لینڈ کی گیسوم نے حال ہی میں اوسلو کے مغرب میں Bærum میں ملک کا سب سے بڑا بائیو گیس بھرنے والا اسٹیشن کھولا ہے۔ یہ اسٹریٹجک طور پر E16 ہائی وے کے کنارے واقع ہے اور علاقائی کاروباروں کو خدمات فراہم کرتا ہے، جو اوسلو اور ناروے کے مغربی ساحل کے درمیان فوسل فری ٹرانسپورٹ کو ممکن بناتا ہے۔
یہ ترقی ناروے کے یورپی یونین ممالک کے لیے ایک اہم توانائی فراہم کنندہ کے طور پر بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتی ہے۔ شمالی سمندر کے اپنے معروف گیس کے ذخائر کے ساتھ، ناروے اپنی برآمدات کو بائیو گیس جیسے دیگر پائیدار توانائی ذرائع تک بڑھا رہا ہے۔ فن لینڈ کی گیسوم کمپنی اس ترقی میں شریک ہونا چاہتی ہے۔ بائیو گیس پلانٹس اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری ناروے اور فن لینڈ کی توانائی کمپنی کی یورپی توانائی مارکیٹ میں پوزیشن کو مضبوط کرتی ہے۔
سکاڈینیوین میں بائیو گیس کی پیداوار اور انفراسٹرکچر کی توسیع یورپ میں ایک وسیع تر رجحان کی بھی عکاسی کرتی ہے جہاں ممالک توانائی میں خود مختاری اور اپنے توانائی ذرائع کو پائیدار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ناروے اپنی قدرتی، ترکیبی اور اسٹریٹجک حیثیت کے ساتھ اس تبدیلی میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
ایسی کمپنیوں جیسے گیسوم کی علاقائی سرمایہ کاری نہ صرف مقامی معیشت میں کردار ادا کرتی ہے بلکہ قریبی ممالک کے لیے توانائی کی فراہمی کی سلامتی کو بھی تقویت دیتی ہے۔

