یہ مقدمہ ماحولیاتی کارکنوں اور ماحولیاتی گروپوں نے دائر کیا تھا۔ زرعی طریقوں میں کھاد اور کیمیائی مادوں کے اضافی استعمال کی وجہ سے زیر زمین پانی اور سطحی پانی میں نائٹریٹ کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے، جیسا کہ انتظامی عدالت نے بھی نوٹ کیا ہے۔
نہروں اور دریاؤں میں الجی کی تیزی سے بڑھوتری نہ صرف ماحولیاتی مسائل پیدا کرتی ہے بلکہ ماہی گیری اور سیاحت پر اقتصادی اثرات بھی ڈالتی ہے۔ کثیر تعداد میں الجی کی موجودگی پانی میں آکسیجن کی سطح کو کم کرتی ہے، جو آبی ماحولیاتی نظام کے لیے نقصان دہ ہے اور مچھلیوں کی آبادی کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ اس کے علاوہ، عدالت کے فیصلے کے مطابق یہ ساحلی علاقوں کی سیاحوں کے لیے دلکشی کو بھی متاثر کرتی ہے۔
ماحولیاتی تنظیم Eaux et Rivières de Bretagne نے اس فیصلے کو ایک اہم پیغام قرار دیا ہے۔ اس تنظیم نے کہا ہے کہ فرانسیسی حکومت پچھلے دس سالوں سے نائٹریٹ آلودگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن وہ رضاکارانہ اقدامات کے ذریعے ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ نقطہ نظر کافی نہیں ہے۔ ماحولیات کے کارکنان کا کہنا ہے کہ 2009، 2012 اور 2021 میں بھی ایسے ہی جرمانے عائد کیے جا چکے ہیں۔
اس فیصلے کے جواب میں صوبائی انتظامیہ بریتانی نے کہا ہے کہ وہ مسئلہ کی فوری نوعیت کو سمجھتی ہے اور کارروائی کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ صوبہ کون سے مخصوص اقدامات اٹھائے گا۔
یہ علاقائی معاملہ باقی فرانس اور دیگر یورپی یونین کے ممالک کے لیے بھی وسیع اثرات رکھتا ہے جو اسی قسم کے ماحولیاتی مسائل سے دوچار ہیں۔ یہ مقدمہ ظاہر کرتا ہے کہ شہری گروپوں اور یورپی یونین دونوں کی طرف سے سخت ماحولیاتی قوانین کی تعمیل کے لیے دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
یورپی ہدایات یورپی یونین کے ممالک پر لازم کرتی ہیں کہ وہ نائٹریٹ آلودگی کی سطح کو کم کرنے کے لیے اقدامات کریں، جیسے کہ زراعت میں کیمیکلز کے استعمال کو کم کرنا اور کھاد کی مقدار میں کمی کرنا۔
ہال ہی میں نیدرلینڈ، جرمنی اور آئرلینڈ جیسے ممالک کو ان ہدایات کی پابندی نہ کرنے پر یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ فرانسیسی حکومت کو بھی یورپی کمیشن کی جانب سے ماحولیاتی قوانین کی سخت نگرانی کرنے کا کہا گیا ہے۔

