زیادہ تر یورپی یونین کے ممالک صبر و برداشت کی تلقین کر رہے ہیں۔ کئی تبصروں اور ابتدائی ردعمل میں روسی صدر پوٹن کے اس انداز سے مماثلتیں نکالی گئی ہیں جس میں وہ فوجی طاقت کے ذریعے پڑوسی ملک یوکرین میں حکومتی تبدیلی کا زور لگا رہے ہیں۔
اج نیو یارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایک ہنگامی اجلاس کر رہی ہے تاکہ امریکہ کی مغربی نصف کرہ میں بالادستی کی توسیع پر غور کیا جا سکے۔
یورپی اداروں اور حکومتی رہنماؤں نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ بیانات میں بار بار کہا گیا ہے کہ کشیدگی سے گریز کیا جانا چاہیے اور بین الاقوامی قانون و اقوام متحدہ کے چارٹر کو رہنما اصول تسلیم کیا جانا چاہیے۔
اس کے ساتھ ہی زور دیا گیا ہے کہ ہر اگلا اقدام استحکام اور پرامن حل میں معاون ہو۔ امریکی کارروائی کی واضح حمایت یا مذمت ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔
زیادہ تر یورپی یونین ممالک صدر مادورو کے انتظامیہ کی حمایت نہیں کرتے۔ یورپی رہنماؤں نے وینزویلا کی عوام کے حق میں اظہار حمایت کیا، مگر امریکی مداخلت کی غیر قانونی حیثیت پر کھل کر بات نہیں کی۔
سرکاری ردعمل کے ساتھ یورپی میڈیا میں کئی تبصرے بھی آئے جن میں یورپ کی پچیدگی کو اس طرح بیان کیا گیا کہ وہ قانونی اصولوں کی پاسداری کی کوشش کر رہا ہے، چاہے اس کا اتحادی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہو۔ یہ تجزیے یورپ کے اندر بے چینی کو اجاگر کرتے ہیں۔
ان تبصروں میں اکثر روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے اقدامات سے موازنہ کیا جاتا ہے، اور یہ نشاندہی کی جاتی ہے کہ یورپ نے پہلے روس کی فوجی مداخلت کی سخت مذمت کی تھی جس کا مقصد سیاسی تبدیلی تھوپنا تھا، جیسا کہ یوکرین میں ہوا۔
بہت سے یورپی رہنما خوفزدہ ہیں کہ امریکی کارروائی کی حمایت ان کے پچھلے مؤقف کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ بین الاقوامی قانون کی پابندی کو ایسے طریقے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس سے یہ یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی فوجی مداخلت کرے، موقف میں تسلسل رہے۔
اس دوران یہ واضح نہیں کہ امریکہ اور دیگر فریق کون سے اگلے اقدامات اٹھائیں گے۔ یورپی رہنماؤں نے اس بارے میں ابھی تک کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

