ماحولیاتی وزیر اسٹیفی لینمکے (گرین پارٹی) نے تجویز دی ہے کہ کسانوں اور زراعت کے لیے خطرہ بننے والے بھیڑیوں کو 21 دن کے اندر مارا جا سکتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جب بھیڑیے کو خطرہ سمجھا جائے تو جلد اور غیر بیوروکریٹک کارروائی کی جا سکے۔ جرمن میڈیا میں اس فیصلے کو ‘تیز تر نشانہ بازی’ قرار دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے حمایت کرنے اور مخالفت کرنے والے افراد کے احتجاج بھی ہوئے ہیں۔
کئی جرمن کسان اپنی مویشیوں پر حملوں اور بھیڑیوں کی وجہ سے مالی نقصان کی شکایت کرتے ہیں۔ جرمن کسان ایسوسی ایشن کے مطابق، موجودہ تجویز ناکافی ہے اور بھیڑیوں کی تعداد میں “پائیدار کمی” کی ضرورت ہے۔
وزیر لینمکے نے اپنے تجویز کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقصد بھیڑیوں کا خاتمہ نہیں بلکہ فطرت کے تحفظ اور زراعت کے مفادات کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ قانونی فریم ورک بہت بیوروکریٹک اور وقت طلب ہے جس کی وجہ سے مسئلہ پیدا کرنے والی صورت حال میں فوری کارروائی مشکل ہوتی ہے۔
جرمن قدرتی تحفظ کی تنظیمیں اور جانوروں کے حقوق کے کارکن خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ تجویز محفوظ جانوروں کی نسل کشی کے لئے ایک خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے اور جرمنی میں بھیڑیوں کی آبادی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ بھیڑیوں اور ان کے سماجی اثرات پر بحث صرف جرمنی تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے یورپ میں موضوع بحث ہے، کیونکہ کئی ممالک میں بھیڑیوں کی آبادیاں قائم ہو چکی ہیں۔
لہٰذا، جرمنی کے منصوبے یورپی یونین میں بھیڑیوں کے انتظام کے وسیع تر مباحثے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ کمیشن کی صدر اُرسولا فان ڈیر لائن نے گزشتہ ماہ کے آخر میں بھیڑیوں سے متعلق حالیہ مسائل کی فوری جانچ کا اعلان کیا تھا۔

