یوکرین میں جنگ کے آغاز سے ہی جرمنی کا روس کے ساتھ تجارتی تعلقات تقریباً تباہ ہو چکے ہیں۔ حالیہ حسابات کے مطابق جرمنی کی درآمدات جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 95 فیصد کم ہو گئی ہیں۔ جرمن تجارتی جریدہ Agragzeitung نے اس کمی کی تصدیق کی ہے، جس میں روس کی حیثیت بطور تجارتی ملک جرمنی کے لیے بہت کم ہو گئی ہے۔
یہ زبردست کمی یورپی پابندیوں کی وجہ سے ہوئی ہے جو روس کے خلاف عائد کی گئی ہیں۔ یورپی یونین نے کئی پابندیوں کے دور نافذ کیے ہیں جو خاص طور پر روس کے توانائی، بینکنگ اور ٹیکنالوجی شعبوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
جرمنی اور دیگر یورپی یونین کے ممالک اپنی توانائی کی فراہمی کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ روسی تیل اور گیس کی درآمد بند کر رہے ہیں۔ روس پر توانائی کے حوالے سے انحصار اب بہت کم ہو چکا ہے، حالانکہ چند یورپی ممالک نے مکمل تبدیلی نہیں کی ہے۔
روسی توانائی کا شعبہ یورپی پالیسی کی وجہ سے سخت متاثر ہوا ہے۔ روسی تیل اور گیس کمپنیوں کے منافع ایک سال کے دوران نصف ہو گئے ہیں، اور بعض ریفائنریوں کے منافع تقریباً صفر رہ گئے ہیں۔ گیز پروم بھی یورپ میں اپنی بہت سی اثر و رسوخ کھو چکا ہے۔
روس پر مجموعی اقتصادی اثر بہت بڑا ہے۔ روس نے تجارتی ملک کے طور پر یورپ میں اپنی اہمیت بہت کم کر دی ہے، اور جرمنی کے لیے روس اب کوئی اہم تجارتی شراکت دار نہیں رہا۔ روسی مصنوعات کا جرمنی کی درآمدات میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہو گیا ہے۔
اسی دوران روس اپنی برآمدات کو یورپ کے علاوہ دیگر مارکیٹوں کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گیز پروم اب ایشیا پر توجہ مرکوز کر رہا ہے، مگر یہ واضح نہیں ہے کہ یہ تبدیلی کتنی کامیاب ہے۔ اس بارے میں ٹھوس اعداد و شمار ابھی دستیاب نہیں ہیں۔

