ریاستہائے متحدہ امریکہ نے یورپی مصنوعات کی درآمد پر 7.5 ارب ڈالر مالیت کی نئی محصولاتی پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی ہیں۔ امریکہ میں یورپی ہوائی جہازوں کی خریداری پر 10 فیصد ٹیکس اور دیگر مصنوعات پر 25 فیصد محصول لگایا جائے گا۔
اس ماہ کے آغاز میں عالمی تجارتی ادارے (WTO) نے طویل کارروائیوں کے بعد فیصلہ دیا کہ یورپ نے یورپی مسافر جہاز ایئربس کی ترقی کے لیے غیر قانونی سبسڈی فراہم کی تھی۔ اس لیے واشنگٹن کو اب متقابل اقدامات کرنے کی اجازت ہے۔
یورپی یونین نے واشنگٹن سے کہا ہے کہ وہ کوئی جرمانہ عائد نہ کرے کیونکہ WTO میں ابھی ایک مماثل کیس چل رہا ہے جو یورپی یونین کی جانب سے امریکہ کے خلاف ہے، امریکی ہوائی جہاز ساز کمپنی بوئنگ کو مالی امداد فراہم کرنے کے حوالے سے۔ اس موضوع پر 2020 کی پہلی ششماہی میں فیصلہ متوقع ہے۔
یورپی یونین نے بھی ہوائی جہاز کے پرزوں کے علاوہ ٹماٹو کیچپ اور گیم کنسولز پر اربوں یورو مالیت کے محصولات کی دھمکی دی ہے۔ اگر امریکہ مزید درآمدی محصولات لگاتا ہے تو یورپی یونین کے پاس بھی یہی اقدام کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا، کہا تھاکامرس کمشنر سیسیلیا مالم اسٹرم نے پہلے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اب بھی امریکہ کے ساتھ ایک متوازن سمجھوتہ کرنے کی امید رکھتی ہیں۔
اصل میں امریکی صدر ٹرمپ چاہتے تھے کہ یورپی یونین کی مصنوعات پر کہیں زیادہ محصولات عائد کیے جائیں۔ ان کے بقول اس سے امریکہ اور یورپ کے درمیان دیگر تجارتی مسائل بھی حل ہو جائیں گے، لیکن اس وقت ایسا اقدام بہت سخت ہوگا۔ ٹرمپ کے مطابق امریکہ اس وقت مزید محصولات عائد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں امریکہ کو اجازت ملی کہ وہ یورپی یونین کی مصنوعات پر محصول لگائے۔ اس اقدام سے فرانس اور اسپین کی شراب کی صنعت اور اسکاٹش وسکی کی صنعت متاثر ہوگی۔ اطالوی شراب بنانے والی کمپنیاں بخش دی گئیں، تاہم اطالوی پنیر بنانے والے متاثر ہوں گے۔
عالمی تجارتی تنظیم (WTO) نے اس ہفتے کے آغاز میں رسمی طور پر محصولات لگانے کی اجازت دی۔ اس اقدام سے بالخصوص فرانس اور اسپین کی شراب سازی اور اسکاٹش وسکی کی صنعت متاثر ہوگی۔ اطالوی شراب ساز کمپنیوں کو چھوٹ ملی ہے، مگر پنیر ساز متاثر ہوں گے۔
ناقدین کے مطابق ٹرمپ یورپ کے اندر دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فرانس اور اسپین نے یورپی کمیشن سے مالی امداد کی درخواست کی ہے۔ اسکاٹش وسکی ایسوسی ایشن نے گزشتہ سال تقریباً 1 ارب پاؤنڈ مالیت کی وسکی امریکہ بھیجی تھی۔ مگر 25 فیصد درآمدی محصول کے سبب وسکی کی تجارت شدید دباؤ میں ہے۔

