دو نیدرلینڈز کی تنظیموں نے کئی سال پہلے ایپل کے خلاف یہ مقدمہ دائر کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایپ اسٹور کے صارفین نے ایپس اور ایپس کے اندر خریداریوں کے لیے بہت زیادہ رقم ادا کی ہے۔ ان کے مطابق ایسا اس لیے ہے کیونکہ ایپل ڈویلپرز پر فکسڈ چارجز عائد کرتا ہے، جو دعوے کے مطابق صارفین کے لیے زیادہ قیمتوں میں تبدیل ہوتے ہیں۔
کمپنی نے یہ دلیل دی ہے کہ یہ مقدمہ نیدرلینڈز میں نہیں آتا کیونکہ ایپ اسٹور تکنیکی اور تنظیمی طور پر ایک اور یورپی یونین رکن ملک میں چلایا جاتا ہے۔ ایپل کے مطابق اس لیے یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ نقصان نیدرلینڈز میں ہوا ہے۔
یورپی عدالت انصاف نے قرار دیا ہے کہ ایپ اسٹور کی ایک واضح نیدرلینڈز ورژن ہے، جس کی اپنی زبان کی ترتیبات اور خریداری نیدرلینڈز کے اکاؤنٹس سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس بنا پر فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ نقصان کا تعلق نیدرلینڈز کے صارفین سے واضح ہے۔ اس فیصلے کے بعد دعویٰ کا مقدمہ اب مزید قانونی مراحل میں جا سکتا ہے۔
نیدرلینڈز کے قانونی عمل کا یہ نیا مرحلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ کیا دونوں تنظیموں کی بات صحیح ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ عمل کتنا وقت لے گا۔ البتہ یہ طے ہے کہ ایپ اسٹور کی قیمتوں پر بحث اب زوروں پر ہوگی۔
اس کے علاوہ یہ بھی غیر یقینی ہے کہ کتنے صارفین اس کیس میں شامل ہیں اور نقصان کی ممکنہ ادائیگی کیسے کی جائے گی۔ یہ سوالات مقدمے کے اگلے حصے کا حصہ ہوں گے جو ابھی شروع ہونا باقی ہے۔
یہ فیصلہ یورپی یونین میں ایپل کے خلاف چلنے والے دیگر مختلف قانونی تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ وہ تحقیقات کمپنی کے بالکل مختلف پہلوؤں سے متعلق ہیں اور نیدرلینڈز کے اس دعوے سے آزاد ہیں۔ یہ تحقیقات ایسی سروسز پر مرکوز ہیں جنہیں یورپی انٹرنیٹ قوانین (DMA اور DSA) کے تحت پرکھنا ضروری ہے۔

