پولینڈ کی حکومت یورپی اتحاد کے یکجہتی فنڈ سے مزید رقم کی درخواست کر رہی ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ سیلاب صرف ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ پورے پولینڈ کے لیے وسیع تر اقتصادی اور ماحولیاتی اثرات رکھتا ہے۔
پولینڈ کے اہم دلائل میں سے ایک یہ ہے کہ زرعی شعبے کو پہنچنے والا نقصان خاص طور پر زیادہ ہے اور اس کے دیرپا نتائج ہیں۔ پولش پیدا کرنے والوں کے مطابق نہ صرف فصلیں تباہ ہوئی ہیں بلکہ زرعی زمین کے بڑے حصے کیمیکل کی باقیات کے آلودہ ہونے کی وجہ سے ممکنہ طور پر مستقل طور پر ناقابل استعمال ہو گئے ہیں۔
کھیتوں پر جمع ہونے والی مٹی میں ممکنہ طور پر ایسے زہریلے مادے بھی شامل ہیں جو نالوں سے خارج ہوئے ہیں، جو خوراک کی پیداوار کے لیے ایک "وقت بم" کی مانند ہیں۔ پولینڈ کی حکومت کا کہنا ہے کہ ان زمینوں کو دوبارہ زرعی استعمال کے لائق بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر صنعتی صفائی کی ضرورت ہے۔
علاوہ ازیں، مویشی پالنے والے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں کیونکہ مویشیوں کی خوراک کی فراہمی تباہ ہو گئی ہے۔ ملک بھر میں امدادی مہم شروع ہوئی ہے، جس میں دوسرے علاقوں کے کسان گھاس اور دوسری چارہ فراہم کر رہے ہیں، لیکن یہ امداد محض وقتی حل ہے۔ اسی لیے پولینڈ یورپی اتحاد سے زرعی شعبے کی تعمیر نو کے لیے ساختی مدد کا مطالبہ کر رہا ہے۔
پولینڈ نے صحت عامہ اور غذائی سلامتی پر منفی اثرات کا بھی ذکر کیا ہے۔ خبردار کیا گیا ہے کہ پانی میں رکھنے والی فصلیں انسانی استعمال کے لیے مناسب نہیں ہیں۔ زرعی مصنوعات کی آلودگی ایک بڑا خطرہ ہے، جس کی وجہ سے بہت سے کسانوں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے کیونکہ وہ اپنی فصلیں استعمال یا بیچ نہیں سکتے۔ پولینڈ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس شعبے کی تعمیر نو اقتصادی عدم استحکام کو روکنے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
یورپی کمیشن نے پولینڈ کی درخواست پر معتدل مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے لیکن اس نے یہ بھی کہا ہے کہ نقصان کے دائرہ کار کا تعین کرنے کے لیے اضافی مطالعات کی ضرورت ہے۔ اگرچہ پولینڈ یکجہتی فنڈ کا حوالہ دیتا ہے، کمیشن نے وضاحت کی ہے کہ یہ فنڈ صرف ہنگامی حالات کے لیے مختص ہے۔ مزید برآں، کمیشن نے کہا ہے کہ پولینڈ کو خود بھی اس مسئلے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں، مثلاً بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور دیگر حفاظتی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔

