پانچ یونانی قبرصیوں کو شمالی قبرص میں ان کے خاندانی ملکیت والے مکانات کا دورہ کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا جو قابضوں نے ضبط کر لیے ہیں۔ پرو ترک حکام کے مطابق "یونانیوں" نے یونانی قبرصی جھنڈے بھی لہراۓ تھے۔ اس گرفتاری نے جنوبی قبرص کے علاقے میں شدید غصہ اور ناخوشگواری پیدا کی ہے۔
قبرصی پارلیمنٹ کی سپیکر نے اپنی یورپی ہم منصب روبیرتا میٹسولا سے یورپی اداروں کی حمایت کی گزارش کی ہے تاکہ وہ ان کی رہائی کے لیے مدد فراہم کریں اور یہ پیغام بھیجیں کہ شہریوں کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یورپی اداروں کے اندر بھی شمالی قبرصی حکام کے اقدامات پر تنقید سنائی دی ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس علاقے کے نام نہاد قانونی نظام کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ یورپی نمائندے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہاں قانونی تحفظ نہیں ہے۔
1974 میں ترک فوجی مداخلت کے بعد سے شمالی قبرص حقیقتاً ترکی کے کنٹرول میں ہے۔ تب سے ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد اور مذاکرات کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔ اس تنازعے نے کمیونٹیز کو تقسیم کیا ہے اور متوازی ڈھانچے قائم کیے ہیں۔ اگرچہ یہ ڈھانچے شمال میں کام کر رہے ہیں، انہیں عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔

