رومانیہ کے وزیر زراعت فلورین باربو نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک خوکوں کی صنعت کو بڑھانے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ یہ اقدام خاص طور پر رومانیہ کو گوشت کی صنعت میں زیادہ خود کفیل بنانے کے لیے ہے۔ باربو کا یہ اعلان اس وقت آیا ہے جب ملک زراعت کے شعبے میں زیادہ خود مختاری اور پائیداری کے خواہاں ہے۔
یورپی فنڈز کی مدد سے رومانیہ کی حکومت گھریلو خوک پالنے کی صنعت کو نمایاں طور پر بڑھانا چاہتی ہے۔ یہ منصوبہ خوراک کی خود مختاری کو تقویت دینے اور درآمد شدہ گوشت پر انحصار کو کم کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ باربو نے زور دیا کہ اس توسیع سے نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور رومانیہ کے دیہی علاقوں کی اقتصادی ترقی میں مدد ملے گی۔
خوڪوں کی صنعت میں وسعت کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجیز اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری بھی کی جائے گی تاکہ پیداواری صلاحیت بہتر ہو۔ اس میں نئے، جدید خوکوں کے اصطبلوں کی تعمیر، جانوروں کے لیے بہتر خوراک اور صحت کے پروگرام، اور اعلیٰ معیار کی پراسیسنگ سہولیات شامل ہیں۔ یہ سرمایہ کاری رومانیہ کی خوکوں کی صنعت کو یورپی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنانے اور بہتر معیار کی مصنوعات فراہم کرنے کے لیے ہے۔
رومانیہ کے زراعتی شعبے کے ردعمل عموماً مثبت ہیں۔ بہت سے کسان اسے اپنے کاروبار کو جدید بنانے اور وسعت دینے کا موقع سمجھتے ہیں۔ تاہم یورپی فنڈز کی دستیابی کے حوالے سے کچھ تشویشیں بھی ہیں۔ باربو نے یقین دلایا ہے کہ مالی امداد وقت پر اور مؤثر طریقے سے تقسیم کی جائے گی اور وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ نگرانی ہوتی رہے گی۔
خوکوں کی صنعت کی وسعت کے علاوہ، باربو نے کسانوں کی حمایت کے لیے دیگر اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے۔ مثلاً آبپاشی کے منصوبوں کے لیے سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے اور حالیہ خشک سالی کے نقصانات کی تلافی کے لیے مالی معاوضہ دیا جائے گا۔ ایندھن کے اخراجات کے لیے سبسڈی بھی دی جا رہی ہے، جو کسانوں کے آپریشنل اخراجات کو کم کرے گی۔
خوکوں کی صنعت کی توسیع کا منصوبہ رومانیہ کے زرعی شعبے کو تبدیل کرنے کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔ وزیر باربو نے بتایا کہ مرغی کی صنعت کو مضبوط بنانے اور زرعی پیداوار بڑھانے کے بھی منصوبے موجود ہیں۔

