رات کے وقت یہ حملہ شہر کے مرکز میں ایک مصروف عمارت کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔ پندرہ ہلاکتوں کے علاوہ تیس سے زائد زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ امدادی ٹیموں نے مشکلات کے باوجود کئی گھنٹوں تک ملبے سے زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے کی کوشش کی۔ دھماکے نے متعدد منزلیں تباہ کر دیں اور شدید آگ بھڑکا دی، جبکہ آس پاس کے رہائشی بلاکوں کو بھی سخت نقصان پہنچا۔
یوکرینی حکام کے مطابق ملک کے مختلف حصوں پر درجنوں میزائل اور ڈرونز داغے گئے، جن میں کیف کو خاص طور پر شدید نشانہ بنایا گیا۔ ہدف صرف فوجی نہیں بلکہ خاص طور پر شہری تھے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ کھڑکیاں اور دیواریں گر گئیں اور کئی خاندانوں کو گھر چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ اس حملے نے یہ احساس بڑھایا کہ دارالحکومت ہمیشہ خطرے میں ہے۔
یورپی رہنماؤں نے اس حملے کو صدمے کی نگاہ سے دیکھا اور سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک الگ واقعه نہیں بلکہ شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لائن نے اسے ایک ظالمانہ عمل قرار دیا جو ظاہر کرتا ہے کہ روس جان بوجھ کر شہری مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ اس سے خوفزدہ نہیں ہوگا اور یوکرین کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ ان کے مطابق یورپی ردعمل واضح ہے: یکجہتی برقرار رکھنا اور ماسکو پر سیاسی و اقتصادی دباؤ میں اضافہ کرنا۔
لندن سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے اس حملے کو ایک عمارت پر حملہ قرار دیا جہاں برطانوی نمائندگی بھی موجود ہے، اور اسے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی کہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ پیچھے ہٹنے کا سوچے بغیر یوکرین کی فوجی اور سفارتی مدد جاری رکھے گا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یہ حملہ روس کی امن عمل کی بے حرمتی کا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق یہ کوئی اتفاقی غلطی نہیں بلکہ کیف میں شہری اہداف کے خلاف جان بوجھ کر کیا گیا عمل ہے۔ انہوں نے دنیا سے کہا کہ جب تک روس بلا سزا کام کرتا رہے گا، امن کی توقع کم ہوتی جائے گی اور روس پر دباؤ بڑھانا ضروری ہے۔
اس دوران صدر ولادیمیر پوتن اب بھی براہ راست بات چیت کے لئے پیشکشوں کو مسترد کر رہے ہیں۔ یوکرین اور امریکہ کی جانب سے فائر بندی مذاکرات کے اقدامات کو مسلسل رد کیا جا رہا ہے۔ اس کے باعث سفارتی رابطے کا دروازہ بند ہے اور امن مذاکرات کا امکان پہلے سے زیادہ دور نظر آتا ہے۔
کیف میں اس حملے نے یورپ میں ک دوبارہ یوکرین کی حمایت پر بحث کو جنم دیا ہے۔ کئی ممالک کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ روس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور مزید فوجی و انسانی امداد ضروری ہے۔ ساتھ ہی روس کو بین الاقوامی طور پر مزید تنہا کرنے کی اپیل بھی بلند ہو رہی ہے تاکہ اس کی جارحیت کو روکنے کے لئے دباؤ بڑھایا جا سکے۔

