لیکن معاہدہ کرنے والے ممالک نے ریچھوں کے انتظام کے لیے زیادہ لچکدار حکمت عملی کی طرف ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ ان ممالک نے ریچھ کی محفوظ حیثیت میں تبدیلی کی منظوری دی ہے۔ حیثیت کی کمی کا مطلب ہے کہ مقامی حکام کو مسئلہ پیدا کرنے والے ریچھوں سے نمٹنے کے لیے زیادہ اختیارات ملیں گے۔
اب یورپی ہیبیٹیٹ قانون سازی، جو اس معاہدے کی بنیاد پر بنایا گیا تھا، اسے تبدیل کرنا ہوگا۔ یہ تبدیلی معمول کے عمل کے ذریعے ہوگی، جس میں یورپی یونین کے ممالک اور یورپی پارلیمنٹ حتمی فیصلہ کریں گے۔ عملی طور پر اس کا مطلب ہے کہ یورپی یونین کے ممالک کو اس تبدیلی کا اثر دیکھنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔
ایک سال پہلے، (سابقہ) یورپی کمیشن نے ریچھ کی محفوظ حیثیت کو ’سخت محفوظ‘ سے ’محفوظ‘ میں کمی کرنے کی تجویز دی تھی۔ کمیشن نے یہ قدم یورپی یونین میں ریچھوں کی صورتحا ل کے تجزیے کی بنیاد پر اٹھایا۔ تجزیے سے ظاہر ہوا کہ اب 23 مختلف یورپی یونین ممبر ممالک میں 20,000 سے زائد ریچھ موجود ہیں۔
اب جب کہ کم کی گئی حیثیت منظور ہو چکی ہے، معاہدے میں تبدیلی 7 مارچ 2025 سے نافذ العمل ہوگی۔ تب ہی یورپی کمیشن یورپی ہیبیٹیٹ ڈائریکٹو میں تبدیلی کا تجویز پیش کر سکے گا۔ اس یورپی قانون میں یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی جانور کی نسل کو کس حد تک تحفظ حاصل ہے اور اسے ریچھ کی کم محفوظ سطح پر لانے کے لیے ایڈجسٹ کیا جانا ضروری ہے۔
یورپی پارلیمنٹ اور متعلقہ یورپی وزراء کی جانب سے اس قانون سازی کی منظوری کے بعد یورپی مرحلہ مکمل ہوگا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ یورپی یونین کی وزارتی کونسل میں ہیبیٹیٹ ڈائریکٹو میں تبدیلی کے لیے عام اکثریت درکار ہوگی یا (زیادہ وسیع) کوالیفائیڈ اکثریت۔ اس کے بعد ڈی ہےگ کا فرض ہے کہ وہ ریچھ کی کم محفوظ حیثیت کو ہالینڈ کے قوانین میں تبدیل کرے۔

