لیتیئم برقی گاڑیوں اور دیگر ٹیکنالوجیز کے لیے بیٹریوں کی تیاری کے لیے ایک ضروری دھات ہے، اور ریو ٹنٹو کا منصوبہ یورپ کی بڑی حد تک لیتیئم کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔
یہ احتجاج خاص طور پر جادار وادی میں کان کنی کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات کے خلاف ہیں اور یہ نئی بات نہیں۔ 2022 میں حکومت نے سخت عوامی مخالفت کے بعد اس منصوبے کو عارضی طور پر روک دیا تھا۔ تاہم، حال ہی میں بیلگراد نے دوبارہ اس منصوبے کو منظوری دے دی ہے۔
احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ کان کنی مقامی زرعی زمین اور آبادی کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، اور ممکنہ آلودگی ماحولیاتی نقصان کو دیرپا بنا سکتی ہے۔ وہ سربیا میں لیتیئم کی کان کنی پر مستقل پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
سربیا کی حکومت اور منصوبے کے حق میں لوگ کہتے ہیں کہ یہ کان کنی کے منصوبے سے معاشی فوائد حاصل ہوں گے، جن میں روزگار کے مواقع اور قومی معیشت کو فروغ شامل ہے۔ صدر الیگزینڈر ووسچچ نے ان احتجاجات کو سیاست زدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ان کی حکومت کو غیر مستحکم کرنا ہے۔
اسی دوران، یورپی یونین بھی اس منصوبے کی حمایت کرے رہی ہے، جس نے سربیا کے ساتھ ایک اسٹریٹجک تعاون پر دستخط کیے ہیں تاکہ یورپی مارکیٹ کے لیے لیتیئم کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اگرچہ یورپی یونین اور ریو ٹنٹو نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اعلیٰ ماحولیاتی معیارات کی پابندی کی جائے گی، مقامی لوگوں اور ماحولیاتی کارکنوں میں خدشات ابھی بھی شدید ہیں۔ آنے والے ہفتے اس منصوبے کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہوں گے۔

