نئی لیبلنگ کو جرمنی میں صارفین کی معلومات اور خوراک و گوشت کی صنعت میں شفافیت کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ برلن چاہتا ہے کہ صارفین شعوری انتخاب کر کے مقامی جرمن مصنوعات کو ترجیح دیں اور اس طرح جرمن مویشی پالنے کی صنعت کی حمایت کریں۔
یہ نئی ضوابط اب صرف سپر مارکیٹوں میں پیک شدہ گوشت تک محدود نہیں بلکہ قصاب یا بازار میں فروخت ہونے والے ’کھلے‘ گوشت پر بھی لاگو ہیں۔ اب تک ماخذ کی معلومات صرف بیف کے لیے لازمی تھی، مگر اس ہفتے سے تمام گوشت کی اقسام پر لازمی ہو گئی ہے۔ ساسیج اور پراسیس شدہ مصنوعات ابھی ان قواعد سے مستثنیٰ ہیں۔
BMEL وزیر سیم اوزدمیر (گرین پارٹی) اس ماخذی نظام کو نہ صرف جرمنی بلکہ پورے یورپی یونین میں مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔ ان کے بقول وہ برسلز پر زور دے رہے ہیں تاکہ یہ نظام یورپی سطح پر نافذ کیا جائے۔ مگر یورپی کمیشن نے ابھی تک اس کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کی ہے۔
کچھ یورپی ممالک میں تجویز دی جا رہی ہے کہ ایک یکساں یورپی فوڈ لیبل ہونا چاہیے جو مصنوعات کی صحت یا پائیداری کو بھی ظاہر کرے۔ تاہم اس پر ابھی مکمل اتفاق رائے نہیں ہے۔ جرمنی اس انتظار میں نہیں رہنا چاہتا تھا۔
جرمن گوشت کی صنعت نے عموماً نئے قانون کو تسلیم کرتے ہوئے خوش آمدید کہا ہے۔ البتہ یہ بات نمایاں کی گئی کہ نئے لیبل پر صرف جانور کے پیدا ہونے کی جگہ لکھی جاتی ہے، لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ کہاں اور کیسے پالے یا پرورش کیے گئے۔
جرمن نشریاتی ادارے WDR کے مطابق یہ نئی قانون سازی طویل عرصے سے زیر بحث تھی اور اب اسے بالآخر نافذ کر دیا گیا ہے۔ یہ موجودہ قواعد کو بڑھاوا دیتی ہے اور صارفین کے حق کو مضبوط کرتی ہے کہ انہیں گوشت کی مصنوعات کے ماخذ کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل ہوں۔

