اسی دوران یورپی اور امریکی سطح پر یوکرین کے لیے سخت حفاظتی ضمانتوں پر کام جاری ہے۔ یہ ضمانتیں نیٹو کی ضمانتیں نہیں ہوں گی۔ کییف اور یورپی یونین کو بھی قبول کرنا ہوگا کہ روس یوکرین کے مشرقی علاقوں اور کریمیا کے کچھ حصے قابض رکھے گا۔
ٹرمپ پہلے پوٹن اور زیلنسکی کے درمیان براہِ راست ملاقات کروانا چاہتے ہیں اور پھر خود بھی شریک ہو کر تین طرفہ مذاکرات کا اہتمام کرنا چاہتے ہیں۔ مقصد: تشدد ختم کرنے کے بارے میں ٹھوس معاہدوں کی راہ ہموار کرنا۔ جگہ اور تاریخ ابھی تک طے نہیں ہوئی۔
ان مذاکرات کی ایک اہم موضوع حفاظتی ضمانتیں ہیں۔ یورپی رہنما اور امریکہ کہتے ہیں کہ وہ یوکرین کے لیے “مضبوط” ضمانتوں پر کام کر رہے ہیں، جس میں یورپی ممالک پیش پیش ہیں اور واشنگٹن سے روابط کو مربوط کیا جائے گا۔ مواد اور نگرانی کی تفصیلات ابھی تک غائب ہیں۔
ادھر واشنگٹن اپنی روس کے خلاف اضافی پابندیاں عارضی طور پر روک رہا ہے۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ پوٹن سے بات چیت کے دو سے تین ہفتوں بعد دوبارہ جائزہ لیا جائے کہ مزید اقدامات کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اس مؤقت توقف کا مقصد سفارتی سرگرمیوں کے لیے جگہ بنانا ہے، بغیر پیشگی وعدوں کے۔
یورپ اس کے برعکس مزید دباؤ ڈالنے کا انتخاب کر رہا ہے۔ یورپی کمیشن 19ویں پابندیوں کا پیکج تیار کر رہا ہے جو ستمبر کے آغاز میں پیش کیا جائے گا۔ یورپی رہنما اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ماسکو پر اقتصادی دباؤ جاری رہے گا جب تک کہ قتل و غارت جاری رہے۔ کون سے شعبے متاثر ہوں گے، بعد میں طے کیا جائے گا۔
یورپی رفتار میں سیاسی رکاوٹیں بھی ہیں۔ پابندیوں کے نفاذ کے لیے اتفاق رائے ضروری ہے، جبکہ ہنگری اور سلواکیا جیسے ممالک پہلے ہی مخالفت کر چکے ہیں۔ اس وجہ سے شیڈول غیر یقینی ہے۔
اقدامات کی ترتیب پر بھی واضح لائن سامنے آ رہی ہے: پہلے بغیر شرائط وقفۂ جنگ کے ساتھ سخت نگرانی، پھر سیاسی امور پر بات چیت۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس نے واضح کیا کہ 19ویں پابندیوں پر کام جاری ہے۔
ادھر روس کو گیس اور تیل کی برآمد کے ذریعے پیسے اب بھی مل رہے ہیں۔ یورو سٹیٹ کے مطابق 2025 کے پہلے نصف میں یورپی یونین کے ملکوں نے روس کے مائع گیس کی تقریباً €4.48 ارب کی خریداری کی۔ برسلز کا منصوبہ ہے کہ روسی گیس کی درآمد 2027 کے آخر تک مکمل طور پر بند کر دی جائے۔
اگلے ہفتے دو پہلوؤں پر توجہ مرکوز رہے گی: سفارت کاری اور دباؤ۔ یورپ ستمبر میں نئی پابندیوں کے فیصلے کرے گا اور ایک ساتھ امریکہ کے ساتھ قابلِ عمل حفاظتی معاہدے تشکیل دے گا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ تین طرفہ اجلاس کب ہوگا اور اس میں کون سے معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔

