فان در لین نے زور دیا کہ کشیدگی بڑھنے سے خاص طور پر روس اور چین کو فائدہ ہوگا۔ اس معاہدے کے ذریعے بین بحیرہ اوقیانوس تعاون برقرار رہتا ہے، حالانکہ یورپی برآمد کنندگان کو قربانیاں دینی پڑیں گی۔ انہوں نے اسے “مضبوط، اگرچہ کامل نہیں، سمجھوتہ” قرار دیا۔
امریکہ صرف یورپی درآمدات پر اضافی بوجھ نہیں ڈال رہا بلکہ چین، میکسیکو اور کینیڈا بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں، لیکن ان پر کہیں زیادہ درآمدی جرمانے ہیں۔ صدر ٹرمپ اسے امریکی صنعت اور روزگار کے تحفظ کے طور پر پیش کرتے ہیں، جبکہ وہی تجارتی شراکت داروں پر ان کے بازار مزید کھولنے کا دباؤ بھی ڈال رہے ہیں۔
یورپی یونین نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ امریکی مصنوعات کے خلاف کسی جوابی محصول کا نفاذ نہیں کرے گی۔ فان در لین کے مطابق ایسا کرنے سے دونوں طرف کو مزید نقصان پہنچانے والی نیچے گرنے والی لہر پیدا ہوگی۔ ان کے بقول، یہ احتیاط یورپ کو سفارتی بات چیت اور مستقبل میں اصلاحات کے لیے گنجائش دیتی ہے۔
یورپی کیمیائی صنعت پر اس کے نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔ کمپنیاں مہنگائی اور امریکی مارکیٹ میں حصے کی کمی کے خدشات رکھتی ہیں، جو ایک اہم برآمدی منڈی ہے۔ اس وجہ سے نئی فیکٹریوں یا اختراعی منصوبوں میں سرمایہ کاری ملتوی یا کہیں اور منتقل ہو سکتی ہے۔
گاڑیوں کی صنعت بھی فکر مند ہے۔ یہ شعبہ جو امریکی برآمدات پر بھاری انحصار کرتا ہے، نئے محصولاتی نرخوں سے ایشیا اور میکسیکو کے حریفوں کو فائدہ پہنچنے کے خوف میں مبتلا ہے۔ وہ صنعت کار جو پہلے ہی برقی گاڑیوں کی طرف منتقلی کی بلند قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں، اپنی منافع کی شرحوں پر مزید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس کے باوجود، برسلز میں بہتر محسوس کیا جا رہا ہے۔ سیاسی رہنماوں نے زور دیا کہ یورپی یونین نے تجارتی جنگ کو روکا ہے اور امریکی منڈی تک رسائی محفوظ رکھی ہے۔ اس سے نقصان تقسیم ہو جائے گا، مگر اقتصادی تعلقات قائم رہیں گے۔
مالیاتی بازاروں میں اس معاہدے کو معتدل خوش دلی سے قبول کیا گیا۔ سرمایہ کاروں نے وضاحت کو سراہا، اگرچہ ماہرین تجزیہ اسے زیادہ تر عارضی وقفہ سمجھتے ہیں، مستقل حل نہیں۔
فان در لین کا موقف ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ تعاون اہم ہے، چاہے اس سے یورپی شعبوں کو تکلیف ہو۔ ان کے بقول، ایک نامکمل سمجھوتہ زیادہ بہتر ہے بجائے کسی تباہ کن تجارتی جنگ کے۔

