ورلڈ بینک کی یہ اپیل اس کے بعد سامنے آئی ہے جب حالیہ دیگر ماہرین کی رپورٹس نے زراعت اور خوراک کی صنعت کا موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحول پر اثرات کی نشاندہی کی ہے۔ زمین کے استعمال اور مویشی پالنے کو عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیس کے قابلِ ذکر اخراج کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔
یورپی پارلیمنٹ میں گرین پارٹی نے بھی اس ہفتے اپنے یورپی انتخابات (6 سے 9 جون) کے لیے مہم کے دوران تجویز دی ہے کہ موجودہ عمومی زرعی پالیسی (GLB) کے سبسڈیز کو بالکل مختلف طریقے سے کسانوں میں تقسیم کیا جائے۔ گرین ڈیل کے ماحولیاتی منصوبوں کی بنیاد پر یورپی یونین کا زرعی فنڈ صرف حیاتیاتی اور جانوروں کے حق میں رہنے والے طریقوں کو فروغ دینے کے لیے دیا جانا چاہیے۔
براہِ راست ادائیگیاں ہمیشہ سے متنازعہ رہی ہیں۔ فنڈنگ کا یہ نظام اب پرانا سمجھا جاتا ہے۔ زراعت کی لابی بھی سمجھتی ہے کہ 2027 کے بعد ایسی سبسڈیز کے حوالے سے صورتحال سخت ہو سکتی ہے، خاص طور پر یورپی یونین کے رکن ممالک میں محدود بجٹ کے دور میں۔
گرین پارٹی کا موقف ہے کہ زرعی زمین کے حجم کی بنیاد پر سبسڈی کی تقسیم کا طریقہ کار مکمل طور پر ختم ہونا چاہیے۔ وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ رقم زیادہ تر بڑے، مالی اعتبار سے مضبوط اور نفع بخش زراعتی اداروں کے پاس جاتی ہے۔ یورپی یونین کی آڈیٹرز (EU Court of Auditors) نے بھی پہلے کہا تھا کہ موجودہ یورپی یونین کے سبسڈی کے بہاؤ کا زراعت اور مویشی پالنے کی پائیداری پر بہت کم اثر ہوتا ہے۔
ورلڈ بینک کے اس اقدام کو مختلف بین الاقوامی فریقوں، جن میں حکومتیں، کمپنیاں اور سماجی تنظیمیں شامل ہیں، کی جانب سے وسیع پیمانے پر حمایت حاصل ہے۔ اس اپیل کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں اور دنیا بھر میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
ورلڈ بینک اور گرین پارٹی کی یہ اپیل یورپی سیاست میں مشترکہ زرعی پالیسی کی مستقبل کی مدت 2023 سے 2027 کے بعد کے لیے ترمیمات کے حوالے سے مذاکرات سے کچھ دیر پہلے سامنے آئی ہے۔ یہ اقدامات نئی یورپی کمیشن کے ذریعے ترتیب دیے جائیں گے جو جون میں انتخابات کے بعد اس سال کے آخر میں منتخب ہوگی۔

