اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (اوئی ایس او) کی نئی رپورٹ میں یہ بھی پایا گیا ہے کہ یورپی یونین کے پاس ایک بڑی گرین ڈیل پالیسی ہے، لیکن وہ اس کو مکمل طور پر نافذ نہیں کر پا رہی۔
’’یورپی یونین میں زراعت اور خوراک کے مستقبل کے لیے پالیسیاں‘‘ کے جائزے میں 2023-2027 کی مدت کے لیے نئی یورپی یونین زرعی پالیسی کے لیے سفارشات دی گئی ہیں۔ اس میں یہ نوٹ کیا گیا ہے کہ غذائی شعبہ ایک ‘‘نقد موقعے‘‘ پر ہے جب وہ موسمی تبدیلی، کووِڈ-19 وبا جیسی بحرانوں اور یوکرائن کی جنگ جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، برسلز خوراک کی حفاظت اور ماحولیاتی پائیداری دونوں کو یقینی بنانے کی راہ پر ہے۔
گزشتہ دس سالوں کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ یورپی یونین کے ممالک میں زرعی پیداواریت دیگر اوئی ایس او ممالک کے مقابلے میں سست رفتاری سے بڑھی ہے۔ زرعی شعبے کی ماحولیاتی پائیداری کے حوالے سے کارکردگی ‘‘امیدوں کے مطابق بہتر نہیں ہوئی۔’’ یہ ناکامی مالی وسائل کی کمی یا عزم کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ پالیسی کے طرز عمل اور اس کے نفاذ کی وجہ سے ہے۔
اوئی ایس او کے ماہرین کے مطابق، 27 یورپی یونین ممالک کو اپنی مشترکہ زرعی پالیسی کی سبسڈیاں مخصوص طور پر کسانوں کی آمدنی کی سطح سے براہِ راست منسلک کرنی چاہیے۔ مزید برآں، برسلز کو ایسی زرعی سرگرمیوں کے لیے سبسڈی دینا بند کرنا چاہیے جو دیگر یورپی یونین کے مقاصد کے خلاف ہوں یا غیر مطلوبہ مسائل کو برقرار رکھتی ہوں۔
رپورٹ کے مطابق، ‘‘حالیہ مشترکہ زرعی پالیسی کی اصلاحات نے مدد فراہم کرنے کے طریقے کو بدلا ہے لیکن اس نے صرف آہستہ آہستہ ترقی کی ہے۔’’ اس لیے سفارش کی گئی ہے کہ کسانوں کو مزید تحفظ فراہم کرنے کے لیے رضاکارانہ سالانہ ماحولیاتی اسکیموں کو ’کئی سالوں پر مبنی نتائج کی بنیاد پر ادائیگی‘ میں تبدیل کیا جائے۔ ماحولیات کی خدمات فراہم کرنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی کی ضرورت بھی ہے۔
رپورٹ یورپی یونین بھر میں کسانوں کے گھریلو آمدنی کے بارے میں دستیاب اعداد و شمار کی کمی کی بھی نشاندہی کرتی ہے — صرف آئرلینڈ اور نیدرلینڈز فی الحال اس معلومات کو جمع کر رہے ہیں۔ اوئی ایس او کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے کسانوں کی آمدنی کا دیگر صنعتوں سے موازنہ کرنا ممکن نہیں ہے۔

