یونان میں اب تک 22 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس بیماری نے یونانی حکام کو مزید پھیلاؤ روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ملک گیر نقل و حمل پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جو ان جانوروں کی تجارت کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں قرنطینہ بھی نافذ کیا ہے اور بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہمات چلائی جا رہی ہیں۔
یونان کی صورت حال کے پڑوسی ممالک پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ رومانیا میں اب 37 متحرک پ پ ر کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں، خاص طور پر کراش-سیورین خطے میں جہاں 28 دیہات کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ رومانوی حکام نے یونان کی طرح اقدامات کیے ہیں جن میں بھیڑ اور بکریوں کی نقل و حمل پر پابندی اور صورتحال کے گہرائی سے مشاہدے شامل ہیں۔
پولینڈ اور ہنگری میں بھی تشویش شدید ہے۔ پولش اور ہنگریائی حکام یونان اور رومانیا کی صورتحال پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور ممکنہ پھیلاؤ کو جلد قابو پانے کے لیے ہنگامی منصوبے تیار کر رہے ہیں۔ پولش مویشیوں کی صنعت کو چوکس کر دیا گیا ہے اور متاثرہ علاقوں سے بھیڑ اور بکریوں کی درآمد کو محدود کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔
جنوب مشرقی یورپ میں یہ بیماری دیگر یورپی ممالک کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ایسٹونیا میں حکام نے خبردار کیا ہے کہ پ پ ر بحرِ بالٹک کے علاقے میں پھیل سکتی ہے۔ ایسٹونوی حکومت نے کسانوں کو سخت حیاتیاتی حفاظتی تدابیر اختیار کرنے اور اپنے ریوڑوں کی صحت پر قریب سے نظر رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔
پ پ ر کے پھیلاؤ کا اقتصادی اثر بھی شدید ہے۔ یونان میں کسانوں نے بیمار جانوروں کی ہلاکت اور نافذ کردہ نقل و حمل کی پابندی کی وجہ سے بھاری نقصان کی اطلاع دی ہے۔ رومانیا میں بھی اس صورتحال کی وجہ سے مویشیوں کی صنعت پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
یورپی یونین متاثرہ ممالک کے ساتھ مل کر پ پ ر کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ہنگامی امداد کے لیے فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں اور نگرانی، ویکسینیشن اور آگاہی کے لیے ایک مربوط حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔

