ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ماضی میں تجارتی معاہدے غیر ملکی شراکت داروں کے حق میں بہت زیادہ تھے۔ صدر خاص طور پر کینیڈا، میکسیکو اور یورپی یونین کی نشاندہی کرتے ہیں جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ انہوں نے آسانی سے امریکی مارکیٹ تک رسائی حاصل کی ہے۔ اس کو درست کرنے کے لئے وہ بھاری درآمدی محصولات عائد کرنا چاہتے ہیں تاکہ امریکی مصنوعات کے تولید کنندگان کی حفاظت کی جا سکے۔
ماہرین اسے تحفظ پرستی کی ایک نشانی اور امکان ہے کہ درآمدی محصولات میں اضافہ ہوگا۔ یہ بین الاقوامی سطح پر مارکیٹوں میں عدم توازن پیدا کر سکتا ہے۔ ٹرمپ طویل عرصے سے ان غیر منصفانہ تجارتی طریقوں پر تنقید کرتے رہے ہیں جو وہ بیان کرتے ہیں۔
تنقید کرنے والے اعلیٰ محصولات کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آخرکار صارفین زیادہ قیمت ادا کریں گے کیونکہ کمپنیاں اضافی درآمدی لاگت کو فروخت کی قیمت میں شامل کر لیتی ہیں۔ مزید یہ کہ تحفظ پرستی میں اضافہ یورپی یونین اور دیگر تجارتی شراکت داروں کو بھی اپنی درآمدی محصولات بڑھانے یا انتقامی اقدامات اٹھانے پر مجبور کر سکتا ہے۔
Promotion
یورپی یونین کے لیے امریکی درآمدی محصولات کی اس دھمکی ایک بڑی چیلنج ہے۔ داخلی منڈی کی بہت زیادہ انحصار برآمدات پر ہے، خاص طور پر زراعت اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں۔ دیگر شعبے جیسے فضائی نقل و حمل، ہائی ٹیک اور دواسازی کے شعبے بھی فکر مند ہیں۔
سیاسی سطح پر یورپی یونین میں مناسب ردعمل کو لے کر اختلاف پایا جاتا ہے۔ کچھ سفارتی ذرائع سے کشیدگی کو کم کرنے کے خواہشمند ہیں جبکہ کچھ ایک مضبوط جواب کے حق میں ہیں، مثلاً امریکی مصنوعات پر محصولات بڑھانا۔ اس مجموعی حکمت عملی کے ذریعے یورپی یونین اپنے داخلی بازار کا دفاع کرنے کی اپنی تیاری ظاہر کر سکتا ہے۔
یورپی رہنماؤں، جن میں کمیشن کی صدر ارزولا وان ڈیر لین شامل ہیں، نے مذاکرات کے لئے آمادگی ظاہر کی ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ اپنی دھمکی عملی جامہ پہنائیں گے یا نہیں۔ آئندہ ہفتے برسلز میں یورپی یونین کے سربراہان کی کانفرنس منعقد ہوگی جس کے دو اہم موضوعات ہوں گے: یوکرین میں روسی جنگ کا سامنا، اور امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ کی روک تھام۔

