یہ تجویز یورپی یونین کے توسیعی عمل کی پیش رفت کے حوالے سے برسوں کی غیر یقینی صورتحال کے بعد سامنے آئی ہے، خاص طور پر جون میں متوقع یورپی پارلیمانی انتخابات سے قبل۔
کئی عرصے تک یورپی یونین کے ممالک میں یہ آوازیں سنائی دیتی رہیں کہ برطانیہ کے (بریگزِٹ) یورپی یونین سے نکلنے کے بعد پہلے داخلی امور کو منظم کرنا ضروری ہے اس سے پہلے کہ نئے رکن ممالک کو شامل کیا جائے۔ اسی وجہ سے کئی بالکان کے ممالک کی درخواستوں کی منظوری میں برسوں تاخیر ہوئی۔
بوسنیا ہرزیگووینا کی ممکنہ رکنیت کی اس خبر کا موقع اس وقت آیا ہے جب مختلف یورپی رہنماؤں نے توسیعی عمل کو تیز کرنے کی کال دی ہے، خاص طور پر اس سال کے شروع میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ یوکرین، مالڈووا اور جارجیا کی رکنیت جلد از جلد مکمل کی جائے۔
روسی جنگ نے یوکرین کے خلاف یورپی سیاست دانوں میں یہ تاثر مزید بڑھا دیا ہے کہ یورپی ممالک کو اپنے وسائل یکجا کر کے ماسکو کے خلاف ایک متوازن قوت بنانی چاہیے۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یوکرین یا بوسنیا ہرزیگووینا (بیاح) یا دیگر درخواست دہندگان کی ممکنہ رکنیت کب تک مکمل ہو گی۔ یورپی سربراہی اجلاس میں اس حوالے سے رہنمائی دینے والے بیانات دیے جاتے ہیں، تاہم کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جاتا۔
اس کے باوجود، یورپی رہنما اب بوسنیا ہرزیگووینا کے ساتھ شمولیت کے مذاکرات کا دروازہ کھولنے جا رہے ہیں، جس سے یہ ملک یورپی یونین کی رکنیت کے ایک قدم مزید قریب ہو جائے گا۔ یہ قدم بوسنیا ہرزیگووینا کی اصلاحات کے نفاذ اور یورپی معیاروں کی تعمیل میں پیش رفت کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے۔
بوسنیا کی وزیر فایون نے یورپی پارلیمنٹ میں زور دیا کہ توسیع یورپی یونین کے لیے جغرافیائی حکمت عملی کی ضرورت ہے، خاص کر روس کی مسلسل مغربی توسیع کے تناظر میں۔ انہوں نے کہا کہ توسیعی عمل نہ صرف ممکنہ رکن ممالک کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ پورے یورپی یونین کی استحکام اور خوشحالی کے لیے بھی اہم ہے۔

