ماحولیاتی تحفظ کی تنظیم ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (WWF) کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی زراعت عالمی خوراک کی فراہمی میں محدود حصہ ڈالتی ہے۔ یہ یونین گندم کا ذخیرہ نہیں بلکہ مہنگا سپر مارکیٹ ہے، جیسا کہ تنظیم نے رپورٹ ’یورپ دنیا کو کھا رہا ہے‘ میں بیان کیا ہے۔
WWF کے اس نتیجے کی بنیاد یہ ہے کہ EU خاص طور پر اعلیٰ معیار کی غذائیں جیسے چاکلیٹ یا گوشت برآمد کرتا ہے، لیکن سستی اشیاء مثلاً کوکو یا چارہ درآمد کرتا ہے۔ ”دنیا کے بہت سے ممالک میں لوگوں کو اناج کی ضرورت ہے، نہ کہ کورن بیف اور شارڈونی،“ WWF کی رپورٹر تانجا ڈریر کہتی ہیں۔
پیر کو شائع ہونے والی رپورٹ میں یہ بات نمایاں کی گئی ہے کہ EU کے ممالک دوسرے ممالک کے مقابلے میں زیادہ کیلوریز اور پروٹینز درآمد کرتے ہیں – چاہے وہ چارے کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو۔ وہ دیگر مارکیٹوں سے 11 فیصد کیلوریز اور 26 فیصد پروٹین نکالتے ہیں۔
ماحولیاتی کارکن یورپی زراعت پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ صرف ایک زیادہ پائیدار خوراکی نظام ہی ملکی اور غیر ملکی خوراک کی سلامتی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اس وقت EU کی گندم کی پیداوار کا کم از کم آدھا حصہ چارے کے طور پر جانوروں کی نالی میں جاتا ہے۔
WWF کا کہنا ہے کہ EU کو اپنی پیداوار اور کھپت کے انداز بدلنے چاہئیں۔ جیسے گوشت کے مویشیوں کی کمی لائی جائے اور فصلوں کی زمین کا ایک بڑا حصہ انسانی خوراک کے لئے استعمال کیا جائے؛ جانوروں کے چارے کے لئے نہیں۔

