یورپی یونین میں اگلے دس سالوں میں کم از کم تین ارب اضافی درخت لگانے کا منصوبہ ہے۔ یہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو سال 2030 تک کم از کم 55 فیصد تک گھٹانے کے اقدامات میں سے ایک ہے۔
یہ بات یورپی کمیشن نے اپنی نئی یورپی یونین جنگلاتی حکمت عملی میں بیان کی ہے، جو یورپی گرین ڈیل کے موسمی اہداف کی تکمیل میں مدد دے گی تاکہ تیس برس میں ایک ماحولیاتی لحاظ سے غیر جانبدار یورپ حاصل کیا جا سکے۔
جنگلات موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنے کے حل کا ایک اہم حصہ ہیں۔ یورپی یونین بھر میں 2030 تک تین ارب اضافی درخت لگانے سے جنگلات کے رقبے میں اضافہ ہوگا اور موسمیاتی تبدیلی کو کم کیا جا سکے گا۔
یورپی یونین میں فی الحال 160 ملین ہیکٹر جنگلات موجود ہیں، جو دنیا بھر کے جنگلات کا 5 فیصد ہے۔ یورپی یونین کے تقریباً نصف علاقے، یعنی 43 فیصد، جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے۔ تمام جنگلات کا دو تہائی حصہ صرف چھ ممالک میں ہے: سوئٹزرلینڈ، فن لینڈ، اسپین، فرانس، جermany اور پولینڈ۔
تین ممالک میں تو 60 فیصد رقبہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے: فن لینڈ، سوئٹزرلینڈ اور سلووینیا۔ نیدرلینڈ اس اعتبار سے صرف 11 فیصد رقبہ جنگلات کا ہے۔
یورپی یونین میں اندازاً 2010 سے 2015 کے درمیان ہر سال تقریباً 300 ملین درخت اگے۔ مقصد یہ تعداد دوگنی کر کے ہر سال 600 ملین درخت لگانا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 2030 تک 'بزنس از یوزوئل' منظرنامے کے مقابلے میں تین ارب اضافی درخت ہوں گے۔
یورپی کمیشن درخت لگانے کے عمل کو آسان، متحرک اور کنٹرول کرے گا۔ یورپی ماحولیاتی ایجنسی کے ساتھ مل کر برسلز 'Map-My-Tree' شہری منصوبہ شروع کرے گا تاکہ عوام کو لگاۓ گئے درختوں کی نگرانی کا موقع ملے۔
صحیح جگہ، صحیح درخت اور صحیح مقصد کے لیے درخت لگائیں اور اگائیں۔ عملی طور پر اس کا مطلب ہے کہ درست قسم کے درختوں کا امتزاج لگایا جائے، نہ صرف جنگلات میں بلکہ زرعی جنگلات، زرعی زمینوں اور شہری علاقوں میں بھی۔ ایسے علاقے جہاں فطرت کی زیادہ اہمیت ہے جیسے دلدل، آبی علاقے، گراس لینڈز اور دیگر نازک علاقے میں درخت نہیں لگائے جائیں۔

