یہ مسودہ معاہدہ جدید غلامی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف یورپی جدوجہد میں ایک اہم قدم ہے۔
یہ معاہدہ، جس کی قانونی شکل جون میں یورپی انتخابات کے بعد نئے یورپی پارلیمنٹ اور اس کے بعد یورپی کمیشن کے ذریعے دی جائے گی، عالمی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ایک طاقتور پیغام کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔
یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب سنکیانگ، چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بڑھتی ہوئی تشویش ہے، جس پر یورپی یونین نے خاص توجہ دی ہے۔ چین چونکہ یورپی یونین کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے، اس لیے اس پابندی کو چین پر دباؤ سمجھا جاتا ہے کہ وہ جبری مشقت سے متعلق اپنی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لے۔
مزید برآں، یورپی یونین نے یہ واضح کیا ہے کہ یہ درآمدی پابندی دیگر ممالک اور علاقوں کی مصنوعات پر بھی لاگو ہوگی جہاں جبری مشقت ہوتی ہے۔
امپورٹ پابندی کے اعلان سے یورپی یونین اور چین کے درمیان کچھ تناؤ پیدا ہوا ہے۔ چینی حکام نے اس پابندی کو داخلی امور میں مداخلت قرار دیا ہے اور جواب میں اقدامات کی دھمکی دی ہے۔ وہ موقف رکھتے ہیں کہ چین نے پہلے ہی مزدوری کے حالات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور یورپی یونین پر سیاسی مقاصد کے تحت کارروائی کرنے کا الزام لگایا ہے۔
چینی تنقید کے جواب میں یورپی یونین نے زور دیا ہے کہ یہ پابندی کسی خاص ملک کی جانب نہیں بلکہ عالمی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے اصول پر مرکوز ہے۔ یورپی یونین نے سنکیانگ میں صورتحال پر اپنی تشویش کا بارہا اظہار کیا ہے اور شفافیت اور انسانی حقوق کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔

