IEDE NEWS

یورپی یونین کی جبری مشقت سے بنی مصنوعات کی درآمد پر پابندی

Iede de VriesIede de Vries
یورپی پارلیمنٹ کے مذاکرات کاروں اور 27 یورپی یونین ممالک کے درمیان جبری مشقت سے بنی اشیاء کی درآمد پر پابندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ یہ پابندی خاص طور پر چین، روس اور دیگر ایسے ممالک پر مرکوز ہے جہاں قیدیوں کو جبری مشقت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
Afbeelding voor artikel: EU-importverbod op goederen van dwangarbeid

یہ مسودہ معاہدہ جدید غلامی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف یورپی جدوجہد میں ایک اہم قدم ہے۔

یہ معاہدہ، جس کی قانونی شکل جون میں یورپی انتخابات کے بعد نئے یورپی پارلیمنٹ اور اس کے بعد یورپی کمیشن کے ذریعے دی جائے گی، عالمی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ایک طاقتور پیغام کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔ 

یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب سنکیانگ، چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بڑھتی ہوئی تشویش ہے، جس پر یورپی یونین نے خاص توجہ دی ہے۔ چین چونکہ یورپی یونین کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے، اس لیے اس پابندی کو چین پر دباؤ سمجھا جاتا ہے کہ وہ جبری مشقت سے متعلق اپنی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لے۔ 

Promotion

مزید برآں، یورپی یونین نے یہ واضح کیا ہے کہ یہ درآمدی پابندی دیگر ممالک اور علاقوں کی مصنوعات پر بھی لاگو ہوگی جہاں جبری مشقت ہوتی ہے۔

امپورٹ پابندی کے اعلان سے یورپی یونین اور چین کے درمیان کچھ تناؤ پیدا ہوا ہے۔ چینی حکام نے اس پابندی کو داخلی امور میں مداخلت قرار دیا ہے اور جواب میں اقدامات کی دھمکی دی ہے۔ وہ موقف رکھتے ہیں کہ چین نے پہلے ہی مزدوری کے حالات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور یورپی یونین پر سیاسی مقاصد کے تحت کارروائی کرنے کا الزام لگایا ہے۔

چینی تنقید کے جواب میں یورپی یونین نے زور دیا ہے کہ یہ پابندی کسی خاص ملک کی جانب نہیں بلکہ عالمی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے اصول پر مرکوز ہے۔ یورپی یونین نے سنکیانگ میں صورتحال پر اپنی تشویش کا بارہا اظہار کیا ہے اور شفافیت اور انسانی حقوق کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔

Promotion

یہ مضمون Iede de Vries نے لکھا اور شائع کیا ہے۔ ترجمہ اصل ڈچ ورژن سے خودکار طور پر تیار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

Promotion