پابندیاں تین اسرائیلی نوآبادیات اور چار اداروں کے خلاف ہیں جن کے بارے میں یورپی یونین کا کہنا ہے کہ وہ مغربی کنارے پر تشدد اور انتہا پسندی میں ملوث ہیں۔ ان اقدامات میں سفری پابندیاں اور ان کے اثاثے منجمد کرنا شامل ہے۔
مہینوں تک اتفاق رائے نہ ہو سکا کیونکہ ہنگری مزید پابندیوں کو روک رہا تھا۔ بوداپسٹ میں سیاسی تبدیلی کے بعدمزید اقدامات کی مخالفت ختم ہوئی اور یورپی یونین کے ممالک نے بالآخر اتفاق کر لیا۔
نتائج
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ الجھن کو ختم کیا جائے۔ان کے مطابق تشدد اور انتہا پسندی کے نتائج ہونے چاہئیں۔ دیگر یورپی وزراء نے بھی زور دیا کہ اسرائیلی یہودی انتہا پسندوں کا فلسطینی باشندوں کے خلاف تشدد فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔
Promotion
نئی پابندیاں صرف اسرائیلی نوآبادیات اور اداروں ہی پر نہیں ہیں۔ یورپی یونین نے ساتھ ہی حماس کے ارکان کے خلاف بھی اقدامات کیے ہیں۔ مختلف یورپی ممالک کے مطابق یہ اقدام اس پیکیج کی وسیع حمایت کے لیے ضروری تھا۔
روزانہ کا تشدد
اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز سے مغربی کنارے پر تشدد میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ کئی علاقوں میں اسرائیلی افواج، نوآبادیات اور فلسطینیوں کے درمیان تقریباً روزانہ جھڑپیں ہوتی ہیں۔
یورپی یونین پہلے ہی مغربی کنارے پر بعض افراد اور اداروں کے خلاف پابندیاں عائد کر چکی ہے۔ تاہم ان اقدامات کی مزید توسیع طویل مدت تک یورپی یونین کے اندر رکاوٹ کا شکار رہی۔
ابھی بھی اختلافات موجود
اسرائیل کے خلاف دیگر اقدامات پر ابھی بھی بڑے اختلافات موجود ہیں۔ کئی یورپی ممالک سخت تجارتی پابندیاں یا اسرائیلی بسیتوں سے مصنوعات کی درآمدات پر پابندی چاہتے ہیں، لیکن اس پر کوئی اتفاق نہیں ہوا۔
سپین اور آئرلینڈ سخت اقتصادی اقدامات کے حق میں ہیں۔ دیگر ممالک بشمول جرمن اور اٹلی، اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدوں میں پابندیوں پر محتاط رویہ رکھتے ہیں۔
جھوٹی توازن
اسرائیل نے یورپی یونین کے فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کا کہنا تھا کہ یورپ "جھوٹی توازن" قائم کر رہا ہے اسرائیلی شہریوں اور حماس کے درمیان۔ اسرائیل کے مطابق یہ پابندیاں یورپی یونین کی "اخلاقی ناکامی" کو ظاہر کرتی ہیں۔

