یورپی یونین نے عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کے سامنے مصر کے خلاف شکایتی کارروائی شروع کی ہے۔ چند سال قبل مصر نے زرعی اور خوراکی مصنوعات کی درآمد پر نئی شرائط عائد کی تھیں۔
ان شرائط میں نہ صرف درآمدی محصولات شامل ہیں بلکہ مختلف فارم بھی بھرنے لازمی قرار دیے گئے ہیں۔ یہ قواعد دودھ، ڈیری مصنوعات، پھلوں کے رس، مٹھائیوں کے علاوہ گاؤڈا اور ایڈممر پنیر جیسے مختلف اشیاء پر لاگو ہوتے ہیں۔
2016 کے بعد سے یورپی یونین کی جانب سے مصر کو ایسی اشیاء کی برآمدات میں 40٪ کمی آئی ہے۔ یہ اقدامات مصر کی مقامی پیداواری صنعت کی حوصلہ افزائی کے سلسلے میں کیے گئے ہیں۔
یورپی یونین کی شکایت WTO کے تنازعہ حل کرنے کے عمل کا پہلا قدم ہے۔ اگر بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل نہ ہوا تو یورپی یونین WTO سے مطالبہ کر سکتی ہے کہ مصر پر سخت پابندیاں اور جرمانے عائد کیے جائیں۔
حال ہی میں مصر میں ایک کمپنی ہیلال سرٹیفکیشن کے شعبے میں واحد مجاز ادارہ ہے جو برآمدات کے لیے لازمی سرٹیفیکیشن جاری کرتی ہے۔ ہیلال سرٹیفیکیٹ کے لیے آخری تاریخ 28 فروری تک بڑھا دی گئی ہے۔
نیدرلینڈز کے پنیر ایکسپورٹرز کو بھی ایڈم اور گاؤڈا پنیر کی 10 کلوگرام تک کی مقدار میں اضافی درآمدی محصولات کا سامنا ہے۔ یہ فیصلے مصر کی ایک تحقیق کے بعد کیے گئے جس میں کہا گیا کہ نیدرلینڈز کے ایکسپورٹرز ڈمپنگ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اگرچہ نیدرلینڈز اس نتیجے سے اتفاق نہیں کرتا، اضافی محصولات اب عملی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

