یورپی یونین اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے روس کی توانائی کی صنعت کے خلاف بیک وقت نئی تعزیری تدابیر نافذ کی ہیں۔ پابندیاں تیل اور گیس دونوں پر لاگو ہیں، جن کے ذریعے برسلز اور واشنگٹن کرملن کے جنگی فنڈز کو مزید کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یورپی پیکج کا سب سے اہم جز روس سے مائع قدرتی گیس (LNG) کی درآمد اور تجارت پر پابندی ہے۔ مختصر مدتی معاہدے چھ ماہ میں ختم ہو جائیں گے، جبکہ طویل مدتی معاہدے زیادہ سے زیادہ یکم جنوری 2027 تک ختم ہوں گے۔
یورپی حکمرانوں کے مطابق یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے جو ماسکو کی جنگی مشین کو شدید نقصان پہنچائے گا۔ یہ اقدامات نہ صرف روس کو مالی طور پر متاثر کریں گے بلکہ یورپ کی توانائی کی انحصاری کو بھی کم کریں گے۔
پابندیوں کا عالمی تیل کی مارکیٹ پر اثر پڑے گا۔ چونکہ چین اور بھارت نئے سپلائرز کی تلاش میں ہیں، اس لیے دیگر خطوں سے تیل کی قیمتیں بڑھیں گی۔ تاجروں کو توقع ہے کہ نقل و حمل کے اخراجات اور بیمہ پریمیم میں بھی اضافہ ہوگا۔
پیکج کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یورپی یونین نے پہلی بار غیر ملکی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں جو روسی برآمدات کو ممکن بناتی ہیں۔ خاص طور پر ایشیا میں متعلقہ کمپنیاں متاثر ہوں گی۔
پابندی کی فہرست میں چینی ریفائنریاں لیاؤ یانگ پیٹرو کیمیکل اور شینڈونگ یولانگ، نیز چائنیاؤیل ہانگ کانگ شامل ہیں۔ یورپی یونین کے مطابق یہ کمپنیاں بڑی مقدار میں روسی تیل خریدتی ہیں اور ماسکو کے لیے اہم مالی ذریعہ بن چکی ہیں۔
ریاستہائے متحدہ اپنے تعزیری اقدامات کے ذریعے روسی تیل کی بڑی کمپنیوں روسنفت اور لوک اوئل اور ان کی درجنوں ذیلی کمپنیوں کو براہ راست نشانہ بنا رہا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں کرملن کی جنگ کی مالی معاونت کرتی ہیں۔
امریکی اقدامات کے باعث بڑی چینی سرکاری تیل کمپنیاں بحرِ روم کے ذریعے روسی تیل کی خریداری متاثرہ طور پر معطل کر چکی ہیں۔ وہ خود امریکہ کی پابندیوں سے متاثر ہونے کے خدشے میں ہیں۔
اس دوران یورپ میں روسی سایہ دار بیڑے پر بھی مزید کاروائیاں کی جا رہی ہیں۔ پانچ سو سے زائد بحری جہاز جو روسی تیل لے جاتے ہیں، کو یورپی بندرگاہوں یا خدمات تک رسائی نہیں دی جائے گی۔
یورپی یونین اور امریکہ کے یہ اقدامات یوکرین میں جنگ کے آغاز کے بعد سے سب سے سخت ہم آہنگ تعزیری لہر بناتے ہیں۔ ان کا مشترکہ ہدف روس کو اقتصادی طور پر کمزور کرنا اور یوکرین کی سیاسی مدد جاری رکھنا ہے۔

