یورپی یونین اور نیٹو نے پیر کو یوکرین سے پہلے اناج کے کن قول کے روانگی کو استقبال کیا اور اسے روسی حملے کی وجہ سے پیدا ہونے والے عالمی خوراکی بحران کو کم کرنے میں “پہلا قدم” قرار دیا۔
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ برسلز اب بھی ماسکو سے “معاہدے کی مکمل تکمیل اور یوکرین کی برآمدات کو دنیا بھر کے گاہکوں تک بحال کرنے” کی توقع رکھتا ہے۔ اس سے پہلے سیرالیون میں رجسٹرڈ کارگو شپ رزونئی نے اوڈیسہ کے یوکرینی بندرگاہ سے لبنان کی جانب 26,000 ٹن اناج کی مال برداری کے ساتھ روانہ ہوا۔
گزشتہ ہفتے کے آخر میں لبنان کے بندرگاہی شہر طرابلس میں ایک سرائی پرچم بردار جہاز کو، جس میں اناج کا بوجھ تھا، یوکرینی سفارتخانے کے بیروت میں درخواست پر زنجیر لگا دی گئی۔ لبنان کی پولیس جہاز لاودیسیہ کے بوجھ کی تفتیش کر رہی ہے۔
یوکرین کے سفیر کے مطابق یہ اناج روسی قبضے میں رہنے والے یوکرینی علاقوں سے آیا ہے۔ اس سفارتکار نے جمعرات کو لبنان کے صدر مائیکل عون سے اس جہاز کے ‘‘غیر قانونی’’ بوجھ کے بارے میں رابطہ کیا۔ یوکرین اکثر روس پر قبضے والے علاقوں سے زراعتی مصنوعات، خاص طور پر اناج، چوری کرنے کا الزام عائد کرتا ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ‘‘لاودیسیہ’’ کی مال بردار کمپنی ترک شہری کی ملکیت ہے اور اناج ایک شام کے تاجر کا ہے۔ اناج کا کچھ حصہ لبنان میں اتارنا پڑا جبکہ باقی شام کے لیے تھا۔ لبنان کے وزارت خارجہ کے مطابق یہ ‘‘جو اور آٹا’’ ہے۔
لبنانی کسٹمز افسر نے بتایا کہ جہاز کے کاغذات ‘‘بہتر حالت میں تھے اور کوئی ثبوت نہیں ملا کہ مال چوری کیا گیا ہے’’۔ ترک حکام نے بھی جہاز کو ضبط کر لیا تھا ‘‘اگر یہ پابندیوں کے تحت آتا تو’’۔ لبنان، جو اقتصادی طور پر سخت متاثر ہے، اس وقت شدید روٹی کی کمی کا شکار ہے۔

