یوروپارلیمنٹ کے اکثریتی اراکین جنگ کے باوجود یوکرین کی آئینی اصلاحات کی تعریف کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے مطابق یوکرین مشکل حالات میں بھی یورپی یونین کی رکنیت کی سمت اہم اقدامات کرتے رہنے کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ مالڈووا کے بارے میں یورپی سیاستدانوں کا رویہ بھی مثبت ہے، لیکن سربیا کے بارے میں بہت کم۔
تاہم یوکرین کی اس حمایت کی شرطیں بھی ہیں۔ یوروپارلیمنٹ کے اراکین کے نزدیک یوکرین کو آئندہ بھی قانون کی حکمرانی، آزاد عدلیہ، اور بدعنوانی کے خاتمے پر کام کرنا ہوگا۔ اگلے داخلہ عمل کے مراحل کے لیے ان شعبوں میں مزید پیش رفت ضروری ہے۔
جنگی ماضی
اسی قرارداد میں پارلیمنٹ نے حال ہی میں یوکرین اور پڑوسی ملک پولینڈ کے درمیان کشیدگی پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران ان دونوں ممالک کی مشترکہ تاریخ کو لے کر حالیہ لفظی جھڑپوں نے یوروپارلیمنٹ کے مطابق دونوں پڑوسیوں کے تعلقات کو غیر ضروری نقصان پہنچایا ہے۔
Promotion
یورپی پارلیمنٹ کو افسوس ہے کہ تاریخی تنازعہ دوبارہ ابھرا ہے اور وہ دونوں ممالک سے درخواست کرتا ہے کہ ماضی کے اختلافات کی وجہ سے تعاون کو متاثر نہ ہونے دیں۔ قرارداد کے مطابق موجودہ حالات میں باہمی سمجھوتہ بہت اہم ہے۔ داخلی اختلافات صرف روس کے حق میں کام کریں گے۔
ایلومینیم کی برآمدات
سٹراسبرگ میں مختلف سیاسی دھڑے یورپی یونین سے روس کو ایلومینیم آکسائیڈ کی برآمدات مکمل طور پر روکنے کی اپیل کی حمایت کرتے ہیں، خاص طور پر اس کے بعد جب پچھلے ماہ معلوم ہوا کہ آئرلینڈ کی ایک ایلومینیم فیکٹری پہلے رپورٹ کی گئی مقدار سے کہیں زیادہ خام مال روس کو برآمد کر رہی ہے۔ روس اس خام مال سے خودکار بم بنا سکتا ہے۔
مجوزہ پابندی یوکرین پر قرارداد کا حصہ ہے۔ اگرچہ اس پر ووٹنگ پابند نہیں، یوروپارلیمنٹ اس کے ذریعے یورپی کمیشن پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے کہ وہ روس کے خلاف اگلے پابندی پیکیج میں ایسی ایلومینیم پابندی شامل کرے۔
اس میں آئرلینڈ کی ایلومینیم فیکٹری آغینش ایلومینا کا اہم کردار ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کے مطابق یورپی یونین کی حمایت یوکرین کے لیے صرف سیاسی حمایت اور رکنیت کے عمل میں ظاہر نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ایسے اقدامات سے بھی ظاہر ہونی چاہیے جو روس کی جنگی معیشت کو مزید کمزور کریں۔

