یورپی کمیشن جون میں خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کے لئے قانونی طور پر پابند ہدف متعارف کرائے گا۔ 2015 میں یورپی یونین کے رکن ممالک نے وعدہ کیا تھا کہ وہ 2030 تک خوراک کے ضیاع کو نصف کر دیں گے، مگر اب تک اس میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔
خوراک کے ضیاع کے بارے میں شہری پینل نے فروری کے وسط میں برسلز میں EU کے تمام رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے 150 افراد کو اکٹھا کیا تاکہ یورپی یونین میں ہر سال پیدا ہونے والے 57 ملین ٹن خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کے لئے منصوبے تیار کیے جا سکیں۔
جبکہ ہر EU شہری سالانہ تقریباً 127 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے، دنیا بھر میں تقریباً 36 ملین لوگ ایسے ہیں جو ہر دوسرا دن بھی مکمل کھانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
خوراک کے ضیاع کا آدھا سے زیادہ حصہ گھریلو صارفین کی جانب سے ہے، لیکن بنیادی پیدا کرنے والے اور خوردہ فروش بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ شہری پینل کی پہلی سفارش تھی ’جتنا قریب کسان، اتنا خوش صارف‘۔
EU شہری پینل نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ خوراک پیدا کرنے والوں اور فروشوں کو اپنی خریداری قریبی پیدا کار سے کرنے کی ترغیب دیں۔ اس سے خوردہ فروشوں کو ضرورت سے زیادہ آرڈر کرنے کی ضرورت کم ہو جائے گی کیونکہ قریبی مصنوعات جلدی دستیاب ہو سکیں گی۔
’’بدصورت‘‘ یا ’’غلط شکل والے‘‘ خوراک کو ضائع کرنے کی روایتی عادت بھی توجہ کا مرکز بننی چاہیے کیونکہ خوردہ فروشوں کا منفی رویہ خوراک کے ضیاع کو بڑھاتا ہے۔ یہ سفارش ’خوراک کے ضیاع کی تعریف کو وسعت دیں‘ کے تحت بھی سامنے آئی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ غیر حاصل شدہ خوراک کو بھی خوراک کے ضیاع میں شامل سمجھنا چاہیے۔
مزید برآں، کسانوں کو چاہیے کہ وہ ’کم مکمل مگر اب بھی قابلِ خوردنی مصنوعات‘ کو مارکیٹ میں لانے کے قابل ہوں۔ ہر ملک کو اپنے کسانوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ وہ اپنی کھیتوں کے کنارے ایسے بورڈ لگا دیں جن پر لکھا ہو کہ ان کا غیر حاصل شدہ خوراک گزرنے والے شہری لے جا سکتے ہیں۔
پینل نے یہ بھی تجویز دی کہ خوراک کی بینک جیسی تنظیموں کو مالی مدد دی جائے جو مقامی کسانوں کو خوراک کے ضیاع سے نمٹنے میں مدد دیتی ہیں۔

