گرو ننگن اور فریسلینڈ کے چند دہائیوں کے کھیتوں میں محققین نے 170 مختلف زرعی کیمیکلز کے نشانات پائے۔ شہری علاقوں میں بھی 144 مختلف زرعی کیمیکلز کے آثار دریافت ہوئے۔
یورپی قوانین میں صرف ہر ایک زرعی کیمیکل کی علیحدہ حد متعین ہے، لیکن مرکبات کی نمائش پر کوئی قواعد ابھی تک موجود نہیں ہیں۔ اس بارے میں یورپی فوڈ ریسرچرز EFSA کام کر رہے ہیں۔
دیہی رہائش گاہوں سے لیے گئے گرد و غبار کے نمونوں میں 207 زرعی کیمیکلز کی جانچ کی گئی۔ سب سے زیادہ پایا جانے والا زرعی کیمیکل گھاس مار دوا گلیفوسیت تھا، جس کے بعد دو ایسے کیمیکلز تھے جو اب یورپی مارکیٹ میں نہیں ہیں مگر بہت آہستہ ختم ہوتے ہیں۔ ‘‘دوسرے یورپی ملکوں کے مقابلے میں نیدرلینڈ میں کھیتوں میں زرعی کیمیکلز کی سطح زیادہ ہے،’’ مٹی فزکس کی پروفیسر ویولیٹ گیرسن نے حال ہی میں Nu.nl کو بتایا۔
EFSA کے مطابق، کھیتوں کے گرد و غبار میں پایا جانے والا تقریبًا 40 فیصد زرعی کیمیکلز ‘‘ممکنہ یا بہت ممکنہ طور پر’’ کینسر پیدا کرنے والا ہے۔ اس سال بولنسٹریک میں پارکنسن دماغی بیماری کے ایک تحقیق کے نتائج متوقع ہیں، جہاں بہت زیادہ زرعی کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں۔
LTO نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اس تحقیق پر خوش ہے۔ ایک ترجمان نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ کسان اور ان کے خاندان محفوظ ماحول میں کام کر سکیں۔ زیادہ تر زرعی کیمیکلز کو محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر تحقیق سے کوئی مختلف نتیجہ نکلتا ہے، تو اس پر اقدام کرنا چاہیے۔

