زیلنسکی نے واضح کیا ہے کہ ممکنہ امن معاہدوں میں ایسے سمجھوتے شامل ہوں گے جو ہر کسی کو قابل قبول نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق اس لیے اوکرائنی معاشرے کے ساتھ وسیع بات چیت ضروری ہے، جس کے بعد ممکنہ طور پر ریفرنڈم اور انتخابات ہو سکتے ہیں۔
زیلنسکی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سب سے پہلی ترجیح جنگ کا خاتمہ ہے۔ اس سلسلے میں اوکرائن بیس نکات پر مشتمل امن منصوبہ تیار کر رہا ہے، جس میں سیکیورٹی گارنٹیوں اور بحالی کے معاہدات شامل ہیں۔ صدر کے مطابق اس منصوبے میں ایسے سمجھوتے موجود ہیں جن کے باعث سماجی عدم اطمینان پیدا ہو سکتا ہے۔
اسی وجہ سے زیلنسکی اوکرائنی عوام کو فیصلہ سازی میں نمایاں طور پر شامل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول جب معاہدات پر مزاحمت ہو تو مشاورت ضروری ہوتی ہے۔ آخرکار، وہ کہتے ہیں، ریفرنڈم اور انتخابات جیسے جمہوری طریقے موجود ہیں جن کے ذریعے عوام اپنی رائے کا اظہار کر سکتی ہے۔
سیکیورٹی گارنٹیوں کے حوالے سے بات چیت میں بین الاقوامی شراکت دار بھی شامل ہیں۔ زیلنسکی بتاتے ہیں کہ ریاستہائے متحدہ اور رضاکار ممالک کی کوآلیشن اس عمل میں حصہ لے رہی ہے۔ وہ اس سلسلے میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رُوٹے کے ساتھ ممکنہ گارنٹیوں پر مشاورت کر رہے ہیں۔
ریاستہائے متحدہ کا کردار یورپی سیکیورٹی کے وسیع تر مباحثے میں بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ نیٹو چیف مارک رُوٹے نے یورپی دفاع کو واشنگٹن سے الگ کرنے کے خیالات کی مخالفت کی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ نیٹو اتحاد کے مکمل طور پر حمایت کرتا ہے۔
رُوٹے کا کہنا ہے کہ یورپ کو اپنی سیکیورٹی کے لیے واقعی زیادہ ذمہ داری اٹھانی چاہیے، مثلاً دفاعی اخراجات بڑھانے کے ذریعے۔ تاہم، وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ سب کچھ ٹرانس اٹلانٹک فریم ورک کے اندر ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق زیادہ یورپی مشق تعاون کو قائم رکھنے کی علامت ہے نہ کہ امریکہ سے علیحدگی کی۔
رُوٹے کے یہ بیانات یورپ کے اندر ایسے حلقوں کے جواب میں ہیں جو زیادہ اسٹریٹجک خود مختاری کے حامی ہیں۔ بعض یورپی سیاستدان اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کیا یورپ واقعی امریکہ پر اعتماد کر سکتا ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ یورپی فوج اپنی الگ پرچم تلے کام کرے۔ رُوٹے خبردار کرتے ہیں کہ ایسا نقطہ نظر نیٹو کو کمزور کر سکتا ہے۔

