برطانوی منصوبہ ایک بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تحریک سے ہم آہنگ ہے۔ اس سے پہلے آسٹریلیا نے ایک مشابہہ اقدام کیا تھا۔ دیگر ممالک بھی نابالغوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود کرنے کے لیے نئے قواعد پر کام کر رہے ہیں۔
تجویز کردہ برطانوی قوانین بڑے پلیٹ فارمز جیسے TikTok، Snapchat، Instagram، Facebook، YouTube، اور X پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں اس بات کو یقینی بنائیں کہ نوجوان عمر کی حد سے کم ہو تو انہیں ان خدمات تک رسائی نہ ملے۔
پلیٹ فارمز کے لیے جرمانے
اگر پلیٹ فارمز مناسب اقدامات نہیں کرتے تو انہیں پابندیوں یا بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ یورپین DSA انٹرنیٹ قوانین کے موجودہ اصولوں کے مطابق ہے۔ اس میں زور کمپنیوں کی ذمہ داری پر ہے نہ کہ نوجوانوں پر۔
Promotion
ساتھ ہی عمر کی تصدیق کے حوالے سے انٹرنیٹ پر بحث میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومتیں ایسے طریقے تلاش کر رہی ہیں جن سے صارفین کی عمر کا تعین کیا جا سکے اور یہ آسانی سے چالاکی سے نظر انداز نہ ہو پائے۔
عمر کی تصدیق کے ایپس
یورپی یونین کے اندر ایسے تکنیکی نظام تیار کیے جا رہے ہیں جن کی مدد سے انٹرنیٹ صارفین اپنی عمر ثابت کر سکیں گے۔ یہ نظام آن لائن خدمات پر عمر کی حد کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کو آسان بنائیں گے۔
یورپی منصوبے ڈیجیٹل ماحول میں نابالغوں کے بہتر تحفظ کے لیے ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اس میں صرف سوشل میڈیا ہی نہیں بلکہ دوسرے آن لائن خدمات بھی شامل ہیں جہاں بچوں کی رسائی ہوتی ہے۔
جعلی برہنہ تصاویر
حوصلہ افزائی کرنے والوں کے مطابق یہ اقدامات ضروری ہیں کیونکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نوجوانوں کی روزمرہ زندگی میں بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے بہتر طور پر محفوظ کیا جانا چاہیے۔ فی الوقت ایسی ایپس کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو برہنہ تصاویر کی نقلی بنانے یا بچوں کی فحش نگاری کے پھیلاؤ کو ممکن بناتی ہیں۔
یہ تجاویز ایک ساتھ ہی بحث کو جنم دے رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں خبردار کر رہی ہیں کہ اگر معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی محدود کی گئی تو نوجوان انٹرنیٹ کے دیگر حصوں کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔

