مسلسل گرمی اور پانی کی قلت دنیا کے مختلف حصوں میں زرعی پیداوار کو متاثر کر رہی ہے۔ صرف یورپی زرعی علاقے متاثر نہیں ہو رہے۔ امریکہ، بھارت اور افریقہ کے بعض حصے بھی خشک حالات کی وجہ سے خوراک کی پیداوار میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
مزید طویل عرصے تک
یہ مسئلہ مزید طویل مدتی بننے کا خدشہ ہے۔ جنوبی یورپ کے خشک ترین حصوں میں بعض فصلیں آخرکار زندہ نہیں رہ سکیں گی۔ برطانوی کسان بھی دوسرے فصلوں کی کاشت کر کے خود کو ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض دوسرے طریقے سے آمدنی حاصل کرنے کی کوششیں بھی کر رہے ہیں۔
زیادہ پانی ذخیرہ کرنا اس لیے زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ یورپ کے دیگر علاقوں میں بھی پانی کی منتظم سازی کو طویل خشک سالی کے خلاف زراعت کو مضبوط بنانے کا ایک اہم ذریعہ تصور کیا جا رہا ہے۔
Promotion
یورپ کے باہر
ناکام فصلوں کی وجہ سے یورپ دوسرے عالمی علاقوں سے اناج پر انحصار بڑھ سکتا ہے۔ مگر وہاں بھی فصلوں پر دباؤ ہے۔ اس وجہ سے یورپی قلت کو آسانی سے اضافی درآمدات سے پورا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پیداوار کے علاقوں میں خشک سالی کا دورانیہ بحیرہ اسود کے گرد جنگ کے اثرات کے ساتھ ملتا ہے۔ روسی اور یوکرائنی اناج کی برآمدات میں مشکلات کی وجہ سے بین الاقوامی اناج مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔
مکئی بھی نازک فصلوں میں شامل ہے۔ خاص طور پر گرمیوں کی فصلوں کو اہم نشوونما کے ادوار میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ اسی وقت غیر معمولی گرمی اور خشک سالی شدت اختیار کر جاتی ہے۔ سبزیاں اور میوہ بھی طویل پانی کی کمی پر فوری ردعمل دیتے ہیں۔
مہنگا چارہ
یہ اثرات صرف سبزی خور خوراک تک محدود نہیں ہیں۔ مکئی، گندم اور جو کی کم پیداوار چارہ مہنگا کر سکتی ہے۔ اس سے گوشت، مرغی اور دودھ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ شدید گرمی کے اثرات گائیوں کی دودھ کی پیداوار کم کر سکتے ہیں، جس سے دودھ دینے والے کاشتکار دوطرفہ نقصان اٹھاتے ہیں۔
نقل و حمل بھی مشکل ہو رہا ہے۔ اہم یورپی دریاؤں میں پانی کی کم سطح کی وجہ سے بحری جہازوں کی لادا ئی کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ یوں خشک سالی نہ صرف زمین سے خوراک کی مقدار کو متاثر کرتی ہے بلکہ اسے صارفین اور خریداروں تک پہنچانے کے راستے کو بھی مشکل بناتی ہے۔

