ڈچ کمپنی وینڈر سیٹ اور جرمن کیمیکل فرم BASF نے کسانوں کو ایک نئے قسم کی سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے بادلوں کے پار دیکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
وینڈر سیٹ نے ایک ٹیکنالوجی تیار کی ہے جس سے خشک شدہ پودوں کو تمام موسمی حالات میں پایا جا سکتا ہے۔ اس میں مائیکروویو سیٹلائٹ امیجز کا استعمال کیا جاتا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر زرعی زمین کی نگرانی کے لیے دنیا بھر میں کئی سالوں سے استعمال ہو رہی ہیں۔ ‘‘نیدرلینڈز میں زرعی زمین زیادہ وسیع نہیں ہے اور کسان اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کی زمین پر کیا ہو رہا ہے۔ لیکن دوسرے خطوں جیسے شمالی اور لاطینی امریکہ میں بڑی وسیع زمینیں ہیں۔ وہاں یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ زمین پر کیا ہو رہا ہے،’’ ڈائریکٹر تھیس وان لیوون نے کہا۔ ‘‘اس طرح وہ اپنے پانی، کھاد اور کیڑے مار ادویات جیسے قیمتی وسائل کو ہدف بنا کر استعمال کر سکتے ہیں۔’’
اب تک کسان اپنے فصلوں کی ہریالی ہی دیکھ سکتے تھے، جو صرف اس صورت میں ممکن تھا جب بادل نظر کی راہ میں رکاوٹ نہ ہوں۔ ڈچ ایجاد کی مدد سے سیٹلائٹ مائیکروویوز کا استعمال کیا جاتا ہے جو پودوں اور زمین سے ریسیو ہوتے ہیں۔ اس طرح کسان زیادہ بادل والے موسم میں بھی فصل کی صورتحال جان سکتے ہیں۔
فصلوں کے تجزیے کے لیے وینڈر سیٹ یورپی خلائی ایجنسی ESA کے سیٹلائٹ ڈیٹا کا استعمال کرتا ہے۔ کمپنی کو توقع ہے کہ یہ ٹیکنالوجی دنیا کے کمزور علاقوں میں بھی دستیاب اور سستی ہوگی۔
کمپنی کے مطابق تجزیے بہت زیادہ درست ہیں، جیسا کہ بیلجئیم کے ہفتہ وار اخبار Landbouwleven نے رپورٹ کیا ہے۔ لیکن کسان ہر ایک الگ پودے کی نمو نہیں دیکھ سکتے، بلکہ یہ 10 بائی 10 میٹر کے کھیتوں کی ریکارڈنگ پر مبنی ہے۔

