دنیا کے بڑے عالمی کموڈٹی ٹریڈرز نے گزشتہ سال بڑھتی ہوئی خوراک کی قیمتوں، مہنگی توانائی اور رکاوٹیں پیدا ہونے والی برآمدات کی وجہ سے زبردست منافع حاصل کیے ہیں۔ عالمی خوراک کی فراہمی نہ صرف روسی جنگ کی وجہ سے یوکرین میں متاثر ہوئی ہے بلکہ دنیا کے دوسرے حصوں میں خشک سالی کی وجہ سے فصلوں کی ناکامی سے بھی متاثر ہے۔
اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی تنظیم آکسفیم کے ماہرین کے مطابق ’ہمارا خوراک کا نظام ٹوٹ چکاہے۔ یہ نظام کمزور طبقات کی مدد نہیں کرتا بلکہ طاقت اور منافع چند افراد کے ہاتھوں مرکوز کر دیتا ہے‘، انہوں نے برطانوی اخبار دی گارڈین کو بتایا۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس سال خوراک کی قیمتوں میں پہلے ہی 20 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ “خوراک کا نظام چند بڑے کثیرالقومی کمپنیوں کے قبضے میں ہے۔ یہ حیرت کی بات نہیں کہ ان کمپنیوں نے بیک وقت زبردست منافع حاصل کیے ہیں۔”
ان بحرانوں کے بیچ اناج اور دیگر غذائی اجناس کی بڑی کمپنیوں کے سالانہ مالی بیانات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان بڑی کمپنیوں کو ان کے ابتدائی حروف کے لیے ABCD کے لقب سے جانا جاتا ہے: آچر-ڈینیئلز-مڈلینڈ، بنجے، کارگل اور لوئس ڈریفوس۔ یہ تینوں مل کر بین الاقوامی اناج کی تجارت کے 70-90 فیصد حصے کے مالک ہیں۔
آچر-ڈینیئلز-مڈلینڈ نے اس سال کی دوسری سہ ماہی میں ریکارڈ منافع حاصل کیا۔ لوئس ڈریفوس نے بتایا کہ اس کے منافع میں 2021 میں پچھلے سال کی نسبت 80 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہر اولیوئیر دے شیوٹر کہتے ہیں، “جب بھوک کا بحران سر اٹھا رہا ہے تو کموڈٹی ٹریڈنگ کے دیو ریکارڈ منافع کمانا ناانصاف ہے۔” “اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ یہ بڑی کمپنیاں بحران سے بچنے کے لیے زیادہ کر سکتی تھیں۔” دے شیوٹر کے مطابق بین الاقوامی اناج کی مارکیٹ توانائی کی مارکیٹ سے بھی زیادہ مرکوز اور کم شفاف ہے۔
زرعی بیجوں اور کیمیکلز کی تجارت میں بھی ارتکاز کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔ تین بڑی کثیرالملکی کمپنیاں، بائر-مونسانٹو، ڈیوپونٹ-ڈاؤ اور کیم-چائنا سائگنیٹا تقریباً 60 فیصد تجارت پر قابض ہیں۔

