تلاش کا دائرہ ان پروازوں تک بھی پھیلا ہوا ہے جن کے ذریعے یہ مسافر اس دور دراز جزیرے سے یورپ اور دیگر مقامات کی طرف لوٹے۔ ہوائی کمپنیوں اور صحت کے اداروں کی کوشش ہے کہ وہ معلوم کریں کہ متاثرہ مسافروں کے علاوہ کون کون لوگ ان کے ساتھ بیٹھے تھے اور سفر کے دوران کس کس سے رابطہ ہوا۔
یہ معاملہ ڈچ ایکسپڈیشن شپ ایم وی ہونڈیس پر ہونے والے وائرس کے پھوٹنے کے سبب پیدا ہوا ہے۔ جہاز پر تین مسافر اس بیماری کے باعث فوت ہوئے۔ ابتدائی شکار ایک ڈچ شادی شدہ جوڑا تھا۔ مرد اپریل کے وسط میں سب سے پہلے فوت ہوا، اور اس کے دو ہفتے بعد اس کی بیوی بھی جاں بحق ہوگئی جب وہ جہاز چھوڑ کر ہوائی جہاز کے ذریعے جنوبی افریقہ گئی تھی۔
جہاز سے اترنا
صحت حکام کے مطابق یہ غالباً hantavirus کے اینڈیز قسم کا کیس ہے۔ یہ قسم نایاب ہے کیونکہ انسانوں کے درمیان اس کا انتقال ممکن نظر آتا ہے، جب کہ دیگر اقسام صرف متاثرہ چوہوں سے پھیلتی ہیں۔
Promotion
ابتدائی اموات کے بعد کچھ مسافروں کو سینٹ ہیلینا سے اتار دیا گیا۔ تب سے حکام کو یہ پتہ لگانا ہے کہ یہ مسافر کہاں ہیں اور انہوں نے کس کس سے رابطہ کیا۔ اس ضمن میں مختلف ممالک اور صحت کی خدمات کے درمیان تعاون جاری ہے۔
کینیری آئلینڈز
مزید کچھ مسافروں کو طبی علاج کے لیے بعد میں جہاز سے نکالا گیا۔ ان کی حالت کے بارے میں محدود تفصیلات ہی دستیاب ہیں۔ دورانِ سفر جہاز پر مسافروں اور عملے کا ایک چھوٹا گروپ موجود رہا۔
اس کے بعد جہاز نے کینیری آئلینڈز کی جانب سفر شروع کیا۔ سفر کے دوران اضافی احتیاطی اقدامات کیے گئے۔ بعض مسافروں کو ان کے کمرے میں رہنا پڑا جبکہ طبی معائنہ اور جانچ جاری رہی۔
کم خطرہ
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اور قومی صحت کی خدمات نے واضح کیا ہے کہ عام عوام کے لیے مجموعی خطرہ کم ہے۔ تاہم رابطہ تلاش اور تحقیقات جاری ہیں کیونکہ ابھی تک واضح نہیں کہ کتنے افراد ممکنہ طور پر متاثر ہوئے ہیں۔
یہ وائرس کی وبا بین الاقوامی تشویش کا باعث بنی ہے کیونکہ متاثرہ مسافر متعدد ممالک میں پہنچ چکے تھے اس سے قبل کہ بیماری کی قسم کا پتہ چلتا۔ حکام درخواست کر رہے ہیں کہ متعلقہ پروازوں پر موجود مسافر علامات پر فوری توجہ دیں اور فوری طور پر معالج سے رابطہ کریں۔

