اس ہفتے برلن میں CDU اور SPD کی 16 خصوصی کمیٹیوں کے اجلاس ہورہے ہیں تاکہ ایک اتحاد معاہدے پر بات چیت کی جاسکے، جبکہ پچھلے ہفتے دو اہم موضوعات پر اتفاق ہوچکا ہے: یوکرین کو بغیر کمی کے مالی امداد فراہم کرنا اور اقتصادی تحریک کے لیے 500 ارب یورو کی ضرورت۔ آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے، جس کی حمایت گرین پارٹی کرے گی۔
پچھلے ہفتے گرین پارٹی کو ان کی منظوری کے بدلے میں ’پائیدار اقتصادی سرمایہ کاریوں‘ کے لیے 100 ارب یورو کی یقین دہانی کرائی گئی۔ یہ اضافی رقم پہلے سے موجود بجٹ آئٹمز کو نقصان نہیں پہنچا سکتی اور نہ ہی پہلے سے موجود منصوبوں کے لیے استعمال کی جائے گی۔ لیکن یہ رقم کہاں خرچ ہوگی، اس ہفتے CDU اور SPD فیصلہ کریں گے۔
اگلے ہفتے کے مذاکرات کے ابتدائی CDU-SPD ایجنڈا میں زرعی حوالے سے صرف ایک جملہ شامل ہے: سستا ’سرخ‘ ڈیزل دوبارہ نافذ کیا جائے گا۔ یہ بھی شامل ہے کہ جرمنی مرکسکور تجارتی معاہدے کی منظوری دے گا اور برسلز میں قدرتی ماحول، ماحولیاتی تحفظ اور پائیداری کے یورپی یونین کے قواعد کی پابندی کرے گا۔
زیادہ جدید اور بڑے مویشی خانوں کی ضرورت (اور حیوانات کی بہتر فلاح و بہبود) کے حوالے سے پانچ سال پہلے وسیع البنیاد بورچھرت خصوصی کمیٹی نے تفصیلی تجاویز پیش کی تھیں۔ اب ختم شدہ وسط الی مرکز-بائیں ’ٹریفک لائٹ اتحاد‘ اس پر اتفاق نہیں کرسکا کہ حکومت، ٹیکس دہندگان یا صارفین کس طرح سے سبسڈی فراہم کریں گے۔
ZKL کے دونوں چیئرپرسنز کے مطابق یہ صورتحال اب دوبارہ دہرائی جا سکتی ہے۔ ریجینا برنر اور ایچم سپلر ایک ’ pendule-political ‘ کی وارننگ دیتے ہیں، جو مسائل کو حل کرنے کی بجائے صرف فی الحال موجودہ صورتحال پر ردعمل دیتا ہے۔ وہ خبردار کرتے ہیں: اگر آپ کسی مسئلے کو نطر انداز کریں گے تو وہ ختم نہیں ہوگا بلکہ دوبارہ سامنے آئے گا۔
ZKL کے ممبران تجویز کرتے ہیں کہ زرعی تبدیلی کے لیے فوڈ پر VAT میں اضافہ کرکے بھی ادائیگیاں کی جائیں۔ اس سے ’گوشت ٹیکس‘ کے نفاذ کا امکان ختم ہو جائے گا۔
CDU اور SPD کی طرف سے زرعی موضوعات پر مزید کیا رکھا جائے گا، ابھی واضح نہیں ہے۔ جرمن کسان یونین DBV کی شدید ناراضگی کے باوجود کم از کم اجرت کو 15 یورو فی گھنٹہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سبزی، پھل اور انگور کی کاشت کے ایسے شعبے جہاں موسمی مزدور خاص طور پر مشرقی یورپی ہوتے ہیں، ان کے لیے یہ اجرت بڑھانا مشکل ہوگا۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی مدنظر ہے کہ CDU/CSU نے گزشتہ اپوزیشن سالوں میں اکثر زرعی تجاویز کے خلاف ووٹ دیا مگر اپنی طرف سے کم ہی تجاویز پیش کیں۔ چنانچہ نئی سیاہ-سرخ اتحاد اس پر واضح نہیں ہے کہ پانچ سال سے زیر التوا ’گندے پانی کے قانون‘ سے کیا کیا جائے گا، جس پر بہت سے CDU زیر قیادت ریاستی حکومتیں نصف دل سے تعاون کر رہی ہیں۔
اس کے علاوہ برلن میں کئی ایسے زیر التوا تجاویز ہیں جو سابق BMEL وزیر سیم اوزدمیر نے پیش کی ہیں۔ گرین پارٹی کو کوئی ضمانت نہیں کہ یہ تجاویز (وہ اضافی 100 ارب یورو کے ساتھ) منظور ہوں گی یا ایک نئے (CDU-؟) زراعتی وزیر کے ہاتھوں دراز میں پڑی رہ جائیں گی۔

