اٹلی زراعت میں مزدوروں کی شدید کمی کا سامنا کر رہا ہے اور اب 600,000 غیر قانونی مزدوروں کو قانونی حیثیت دینے پر غور کر رہا ہے تاکہ وہ کھانے کی صنعت اور زرعی و باغبانی کے شعبوں میں بطور موسمی مزدور باضابطہ کام کر سکیں۔ بہت سے شمالی افریقی موسمی مزدوروں کے لیے یہ ان کے مطلوبہ رہائشی ویزے حاصل کرنے کا موقع ہو سکتا ہے۔
کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے 300,000 غیر ملکی مزدور مشرقی یورپ سے اٹلی نہیں پہنچ سکے۔ infomigrants.net کے مطابق، "ان کے بغیر ملک کی تمام فصلیں خطرے میں ہیں اور وہ کبھی بھی اٹلی اور یورپی سپرمارکیٹوں کے اسٹالوں تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گی۔"
تخمینہ کے مطابق اٹلی کے اس شعبے میں 270,000 سے 350,000 موسمی مزدوروں کی ضرورت ہے۔ حکام اس خلا کو پُر کرنے کے لیے غیر قانونی تارکین وطن کو باقاعدہ قانونی حیثیت دینے پر انحصار کر رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ صحت کے بحران سے پہلے بھی زرعی کاموں میں غیر قانونی طور پر کام کر رہے تھے۔
اٹلی کی زراعت میں غیر قانونی کام ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ملک کے جنوبی حصے میں اکثر کاغذات نہ رکھنے والے مزدور سائٹرس پھلوں یا ٹماٹر کی فصل کی کٹائی میں کام کرتے ہیں۔ اکثر وہ گٹو میں رہتے ہیں اور انہیں معمول سے کم اجرت دی جاتی ہے۔ اب اٹلی کی زرعی تنظیموں نے انہی غیر قانونی مزدوروں کی قانونی حیثیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے جو پہلے ہی اس شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ تارکین وطن کے استحصال کا مسئلہ صرف افریقیوں تک محدود نہیں بلکہ بہت سے اطالوی مزدور بھی مافیا کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہیں۔
وزارت زراعت ان اطالویوں کو جو کورونا وائرس کے بحران کی وجہ سے بیروزگار ہیں، فارموں میں فصل کی کٹائی میں مدد دینے پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ وزارت ایک آن لائن پلیٹ فارم قائم کرنے پر غور کر رہی ہے جہاں لوگ کھیت میں کام کے لیے رجسٹر کر سکیں۔ حکومت نے زراعت میں کام کرنے کے لیے اپنے عوام کے درمیان ایک مہم بھی شروع کی ہے، کیونکہ سیاحت کے شعبے میں کام نہیں ہے۔ رومانیہ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔ اٹلی یہ یقین دہانی کرانا چاہتا ہے کہ رومانیہ کے موسمی مزدوروں کو کھیتوں میں مستقل ملازمت مل سکتی ہے۔
یورپ بھر میں خوراک بنانے والے اور زراعت کے شعبے اس وقت سوچ میں مبتلا ہیں کہ وہ موسم کے دوران کام کے لیے کن کو ملازمت پر رکھیں، کیونکہ سرحدیں عبور کرنے میں پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں۔ موسمی مزدوروں کی کمی صرف اٹلی کا مسئلہ نہیں ہے۔ کئی یورپی یونین کی حکومتوں نے زرعی شعبے کی مدد کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، یورپی یونین میں جرمن، فرانسیسی، ہسپانوی، اطالوی، برطانوی اور پولش کاشت کاروں کو سرحدوں کی بندش کی وجہ سے عملے کی کمی کا سامنا ہے۔ وہ انتباہ کرتے ہیں کہ آنے والے مہینوں میں یورپی یونین میں موسمی مزدوروں کی تعداد میں تقریباً 40-50 فیصد کمی ہو گی، جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ کھیتوں اور باغات میں بہت ساری سبزیاں اور پھل ضائع ہو کر سڑ جائیں گے۔

