نیکوسیا میں ہونے والی بات چیت سے رسمی امن مذاکرات کی بحالی ممکن نہ ہوئی۔ گوتیرس نے صدر نیکوس کرسٹوڈولائیڈز اور ترک-قبرصی رہنما تفان ایرہورمان سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی، جس کے بعد ایک مشترکہ اجلاس بھی ہوا۔ اس طرح اقوام متحدہ نے اس حکمت عملی کو برقرار رکھا جس میں دونوں فریقین کو براہ راست شامل کیا جاتا ہے۔
5 + 1
دورے کا سب سے اہم نتیجہ یہ اتفاق رائے ہے کہ ایک نئی پانچ جمع ایک اجلاس کی طرف کام کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں دو قبرصی فریقین، تین گارنٹی دینے والے ممالک یونان، ترکی اور برطانیہ، اور اقوام متحدہ دوبارہ میز کے گرد جمع ہوں گے۔ ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ اجلاس کب ہوگا۔
مزید برآں، یہ نئی میٹنگ خودبخود نہیں ہوگی۔ بنائے گئے معاہدے کے مطابق پہلے مناسب تیاریاں کرنا ضروری ہیں۔ جب قابلِ یقین پیش رفت ہو جائے گی، تب ہی متعلقہ فریقین کے مطابق نئی کانفرنس کے کامیاب نتیجے کے امکانات ہوں گے۔
Promotion
اس معاملے میں خاص توجہ اعتماد قائم کرنے والے اقدامات پر دی گئی ہے۔ دونوں کمیونٹیز کے درمیان عملی تعاون باہمی اعتماد میں اضافہ کرے گا اور آئندہ سیاسی مذاکرات کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔
دس سال بعد
آئندہ مذاکرات کے طریقہ کار پر ابھی مکمل اتفاق رائے نہیں ہوا۔ تنازعے کے مواد کے علاوہ متعلقہ فریقین پہلے طریقہ کار اور ممکنہ نئے مذاکراتی عمل کی تشکیل کے بارے میں وضاحت چاہتے ہیں۔ اس سے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ دوبارہ طویل عرصے تک بات چیت بغیر کسی ٹھوس نتیجے کے نہ ہو۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ حالیہ مشاورت کے دوران دوبارہ معاملات کی فنی نوعیت پر بات چیت ہوئی۔ متعلقہ رہنماؤں کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے جب کرانس مونٹانا میں بات چیت کے بعد تقریباً دس سال بعد ایسی گفتگو ہوئی۔
آغاز ہو گیا
تمام متعلقہ فریقین اب نئی بین الاقوامی میٹنگ کے انعقاد کے ارادے کی تائید کرتے ہیں، اگرچہ وہ اس کے ساتھ مختلف شرائط بھی جوڑتے ہیں۔ تین گارنٹی دینے والے ممالک دونوں قبرصی فریقین اور اقوام متحدہ کے ساتھ ایک مستقل کردار ادا کرتے رہیں گے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین بھی اقوام متحدہ کے عمل کی حمایت کی کوشش کر رہی ہے اور دونوں رہنماؤں سے رابطے میں ہے۔
گوتیرس کے دورے نے طویل عرصے سے چلے آ رہے تنازعے کا حل نہیں نکالا، لیکن ایک نئے سفارتی مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ آنے والے وقت میں یہ ظاہر ہوگا کہ کیا تیاریاں اتنا اعتماد پیدا کرتی ہیں کہ دوبارہ ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جا سکے اور جامد پڑے مذاکرات کو نئی جان دی جا سکے۔

