مذاکرات کے متعلق افراد کے مطابق یہ اختتامی مرحلے میں ہیں اور صرف چند مسائل باقی ہیں۔ دونوں فریق واضح پیش رفت کا اظہار کرتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ قریبی وقت میں معاہدہ مکمل ہو جائے گا۔
کمیٹی کی صدر ئرزولا فن ڈر لائین آئندہ ہفتے آسٹریلیا کا دورہ کریں گی۔ توقع ہے کہ وہ وہ معاہدہ مکمل کریں گی جس کی تیاری یورپی یونین کے تجارتی کمشنر سیفووک اور ان کے آسٹریلوی ہم منصب فیرل نے گزشتہ ہفتے برسلز میں کی تھی۔
زراعت
زراعت اور مویشی پروری اب بھی سب سے بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ خاص طور پر آسٹریلوی گائے اور بھیڑ کے گوشت کی یورپی مارکیٹ میں رسائی دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کا باعث ہے۔ تاہم، معاہدہ صرف زراعت تک محدود نہیں ہے؛ صنعت، محصولات اور وسیع اقتصادی تعاون بھی مذاکرات کا حصہ ہیں۔
Promotion
یورپی یونین اور آسٹریلیا کے درمیان یہ تجارتی معاہدہ حال ہی میں جنوبی امریکہ کے مرکوسور ممالک کے ساتھ کیے گئے یورپی تجارتی معاہدے سے بہت ملتا جلتا ہے۔ وہاں بھی یورپی کسانوں کو اس معاہدے پر کافی اعتراضات تھے کیونکہ اس نے ان کے بازاروں میں مقابلے کے امکانات پیدا کیے تھے۔ باوجود اس کے، یورپی کمیشن نے اس معاہدے کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ایک اہم اضافی نقطہ آسٹریلوی خام مال جیسے لیتھیئم، کوبالٹ اور نایاب زمینوں کی دستیابی کے حوالے سے تعاون ہے۔ یہ صنعتی اور اقتصادی زنجیروں کی مضبوطی میں مددگار ہے۔
عالمی تجارت
نئے امریکی درآمدی محصولات اور بڑھتی ہوئی بین الاقوامی کشیدگیوں کی وجہ سے مذاکرات کو اضافی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ دونوں فریق اپنی شراکت داری کو گہرا کرنے کے لیے دباؤ میں ہیں اور اسی لیے وہ نئے تجارتی شراکت دار تلاش کر رہے ہیں تاکہ امریکہ پر اپنی تجارت کی انحصار کم کر سکیں۔
اسی وجہ سے ممکنہ معاہدے کو ایک واضح اسٹریٹجک اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ اسے بڑی اقتصادی طاقتوں کے مقابلے میں اپنی قوت بڑھانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ مقصد خاص طور پر یورپی یونین اور آسٹریلیا کی اقتصادی حیثیت کو مضبوط کرنا اور عالمی غیر یقینی صورتحال میں ان کی سپلائی چین کو مضبوط بنانا ہے۔

