توجہ اب گرون لینڈ کی طرف مرکوز ہو گئی ہے، جب کہ امریکی صدر نے بار بار اعلان کیا ہے کہ ریاستہائے متحدہ کو اپنی قومی سلامتی کے لیے اس علاقے کی ضرورت ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کے وسائل استعمال کرنے سے انکار نہیں کیا گیا، اس میں فوجی وسائل بھی شامل ہیں۔
ان بیانات نے نیٹو کو ایک غیر معمولی صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ اس اتحادی تنظیم کے موجودہ فوجی منصوبے بیرونی حریفوں کو مدنظر رکھتے ہیں۔ ایسی حالت کے لیے جس میں ایک نیٹو اتحادی، دوسرے نیٹو اتحادی کو دھمکی دے رہا ہو، کوئی طے شدہ منصوبہ موجود نہیں ہے۔
ڈنمارک اور گرون لینڈ نے اسی بنا پر امریکی وزیر خارجہ روبیو سے جلد بات چیت کا مطالبہ کیا ہے، لیکن وہ تاحال یہ ملاقات موخر رکھے ہوئے ہیں۔ گرون لینڈ اور ڈنمارک کے بیانات کے مطابق یہ بات چیت امریکی مقاصد کی وضاحت کے لیے ہے۔
ڈنمارک کے وزیراعظم نے عوامی طور پر خبردار کیا ہے کہ ایک نیٹو اتحادی کا دوسرے پر فوجی حملہ نیٹو سمیت سب کچھ منجمد کر دے گا اور اس طرح وہ سیکیورٹی بھی متاثر ہو گی جو دہائیوں میں قائم کی گئی ہے۔
حقیقی فوجی کارروائی نہ ہونے کے باوجود امریکی بیانات کے لہجے کے اثرات پہلے ہی دیکھے جا رہے ہیں۔ کئی ردعمل میں زور دیا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی زبانی چپقلش خود اتحادی اتحاد کے استحکام اور باہمی اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہے۔
ریاستہائے متحدہ نے فوجی وسائل استعمال کرنے سے انکار نہیں کیا، جیسا کہ حالیہ ہفتوں میں نظر آیا جب انہوں نے کئی منشیات کی تیز رفتار کشتیوں کو بمباری کا نشانہ بنایا اور ایک فوجی آپریشن کے ذریعے وینزویلا کے صدر کو اغوا کیا۔
کئی یورپی رہنماؤں نے کھل کر ڈنمارک اور گرون لینڈ کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اس موقع پر یہ بات زور دی گئی کہ یہ صرف ایک دو طرفہ تنازعہ نہیں بلکہ پورے یورپ کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔
نیٹو کے اندر اس بارے میں بھی انتباہ سنائی دیا ہے کہ اس بحث کو شروع کرنا ہی نقصان دہ ہے۔ یہ اتحاد اقدار اور اعتماد پر مبنی ہے اور یہ تصور کہ خطرہ اندر سے آ رہا ہے، اسے کمزور کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔
ساتھ ہی یہ مشاہدہ بھی اہم ہے کہ حال ہی میں طے پانے والی امریکی دفاعی اور سلامتی کی نئی پالیسی اس بات کا تاثر دیتی ہے کہ ریاستہائے متحدہ پورے مغربی نصف کرہ پر حکمرانی چاہتا ہے۔ امریکہ کی مسلح قوت اب صرف جنوبی سمت، یعنی ‘گلف آف امریکہ’ اور وسطی و جنوبی امریکہ کی 'پچھواڑے' تک محدود نہیں رہی، بلکہ اب یہ شمال مشرق کی سمت بھی پھیل گئی ہے۔
اس تناظر میں، یوکرین کا معاملہ واشنگٹن نے روس اور یورپی یونین کے حوالے کر دیا ہے۔ یورپیوں کو بظاہر یہ حقیقت قبول کرنی پڑے گی کہ خطرہ صرف مشرق سے نہیں آتا، بلکہ اب مغرب سے بھی بے یقینی، خلل اور ناگواری کا خطرہ لاحق ہے۔
آخر میں، کئی عسکری تجزیہ کاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انتظار کرنا کوئی آپشن نہیں ہے۔ یورپی آوازیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ گرون لینڈ اور نیٹو کے مستقبل کے بارے میں وضاحت ضروری ہے، جب کہ یہ بھی تسلیم کیا جا رہا ہے کہ ایسی بحرانی صورت حال کے لیے کوئی موجودہ منصوبہ بندی نہیں ہے۔

