نیٹو کے سیکرٹری جنرل ینس اسٹولٹینبرگ کے لیے ترکی اور روس کے درمیان حال ہی میں شام کے شمالی علاقے پر ہونے والے معاہدے پر فیصلہ کرنا ابھی جلد ہے۔ اس مسئلے پر آج اور کل بھرپور گفتگو ہوگی کیونکہ نیٹو کی نصف سالانہ سربراہی اجلاس اس بار لندن میں منعقد کی جا رہی ہے۔
ترکی اور روس نے اتفاق کیا ہے کہ دونوں ممالک شام کے شمالی علاقے پر مشترکہ کنٹرول قائم رکھیں گے، کیونکہ امریکہ نے وہاں اپنے 'بیس فوجی' واپس بلا لیے ہیں۔ اسٹولٹینبرگ نے دفاعی وزراء کی ملاقات سے پہلے کہا، "میرے خیال میں یہ فیصلہ کرنے کے لیے ابھی جلد ہے کہ صدر ایردوان اور صدر پوٹن کے درمیان اس بیان اور معاہدے کے کیا کیا نتائج ہوں گے۔"
نیٹو کے اتحادی ملک ترکی کا روس کے قریب آنا دیگر نیٹو ممالک میں شدید تشویش پیدا کر رہا ہے، خاص طور پر چونکہ ترکی نے بغیر کسی شریک ممالک سے مشورہ کیے اپنے طور پر شام کے شمالی علاقے میں داخل ہو کر بھی یہ صورتحال پیچیدہ بنا دی ہے۔
اسٹولٹینبرگ نے تناؤ کو ختم کرنے کی کوشش کی اور ترکی کے امریکہ کے ساتھ حالیہ معاہدے کا دوبارہ خیرمقدم کیا جو شمالی شام میں ترک انخلاء کے بعد جنگ بندی پر ہوا تھا۔ اسٹولٹینبرگ کے مطابق اس معاہدے سے تشدد میں زبردست کمی آئی ہے اور انہوں نے اسے "کسی چیز کے طور پر قرار دیا جس پر ہم تعمیر کر سکتے ہیں۔"
نیٹو نے اب تک ترک صدر رجب طیب ایردوان کی کرد ملیشیا کے خلاف شام میں فوجی کارروائی کی مذمت نہیں کی ہے۔ یہ کرد نیٹو کے اتحادی تھے جو گروہ داعش کے خلاف لڑ رہے تھے۔ اسٹولٹینبرگ نے پچھلے ہفتے ترک مداخلت کی مذمت کرنے سے انکار کیا تھا۔
نیٹو کی سربراہی اجلاس پر فرانس کی جانب سے امریکہ پر حالیہ (دوبارہ شروع ہونے والی) تنقید بھی غالب رہے گی۔ فرانسیسی صدر میکرون نے کہا ہے کہ یورپی ممالک امریکہ کے بغیر نیٹو میں بہتر ہوں گے۔ میکرون نے نیٹو کو ’دماغی موت‘ بھی قرار دیا ہے۔
جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے میکرون کے اس نظریے کی تردید کی اور کہا کہ وہ نیٹو کو حفاظتی ستون کے طور پر دیکھتی ہیں۔ مرکل نے کہا، "نیٹو ہماری سلامتی کا ایک ستون ہے۔" اگرچہ میکرون نیٹو ممالک کی افواج کے درمیان رابطے اور مشترکہ آپریشنز سے خوش ہیں، ان کے بقول یہ وقت آ گیا ہے کہ یہ تسلیم کیا جائے کہ نیٹو کو "سٹریٹجک اور سیاسی مسائل کا سامنا ہے۔"

