یورپیہ کے خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس نے یورپی پارلیمنٹ میں ایک ہنگامی مباحثے کے دوران روس کی بلاجواز اور لاپرواہ کاروائی کو قرار دیا۔ بیان کے مطابق اس حملے سے یورپی شہریوں کی سلامتی اور خطے میں استحکام کو خطرہ ہے۔ یورپی یونین نے ماسکو پر پابندیوں کو مزید سخت کرنے کا وعدہ کیا اور پولینڈ کے ساتھ یکجہتی پر زور دیا۔
پولش ریڈارز نے کل درجنوں ڈرونز کو ریکارڈ کیا۔ ان میں سے کچھ پولش علاقے کے اوپر نیٹو طیاروں کی مدد سے، جن میں ڈچ F-35 بھی شامل تھے، تباہ کیے گئے۔ اٹالوی نگرانی کے طیارے اور ایک ٹینک طیارہ بھی آپریشن کا حصہ تھے۔ اس اتحادی نے پہلی بار روسی طیاروں کے خلاف حقیقی طور پر ہتھیار استعمال کیے۔
پولش وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک کے مطابق یہ حملہ دوسری جنگ عظیم کے بعد فضائی حدود کی سب سے سنگین خلاف ورزی ہے۔ اسی لیے وارسا نے نیٹو کے آرٹیکل 4 کی بنیاد پر ہنگامی اجلاس طلب کیا۔
کئی جگہوں پر ملبے ملے۔ لوبلن کے علاقے میں ایک خراب شدہ ڈرون کھیت میں پڑا تھا، جبکہ وائیریکی میں ایک گھر کو گرے ہوئے ڈرون کے ٹکڑوں سے نقصان پہنچا۔ دو ڈرونز نے سو کلومیٹر سے زائد ملک کے اندر پرواز کی، گاڈانسک اور وارسا سے بھی آگے تک۔
واقعہ کے باعث پروازیں وقتی طور پر روک دی گئیں۔ وارسا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور تین دیگر ہوائی اڈے کئی گھنٹوں کے لیے بند رہے۔ فضائی دفاع کو اعلیٰ ترین چوکسی کی حالت میں لایا گیا۔ دن کے بعد زیادہ تر پروازیں دوبارہ شروع ہو سکیں، تاہم تاخیر برقرار رہی۔
بین الاقوامی رہنماؤں نے سخت ردعمل دیا۔ فرانس کے صدر میکرون نے حملے کو ناقابل قبول قرار دیا اور یورپی کونسل کے سربراہ نے اسے تمام یورپیوں کے لیے خطرہ کہا۔ امریکہ میں پارلیمنٹ کے ارکان نے اس واقعے کو "جنگی جرم" قرار دیا۔ واشنگٹن نے فوری طور پر بی-52 بمباری کرنے والے طیارے یورپ بھیج کر خبردار کیا۔
ماسکو نے روسی ڈرونز کے جان بوجھ کر نیٹو فضائی حدود میں داخل ہونے کی تردید کی۔ روسی وزارت دفاع نے کہا کہ آپریشن صرف یوکرین پر مرکوز تھا اور پولینڈ کو واقعہ میں ملوث کرنے کی کوشش کی۔ وارسا اور یورپی یونین نے اسے واضح تصادم قرار دیا ہے جس کے لیے مشترکہ جواب ضروری ہے۔
شراکت داروں کے مطابق یہ تصادم برسوں میں روس اور نیٹو کی پہلی براہ راست فوجی ٹکراؤ ہے۔ جہاں پہلے کی خلاف ورزیاں بغیر سزا کے رہ جاتی تھیں، اس بار کارروائی کی گئی۔ اس سے تنازعے کے مزید بڑھنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور پورے یورپ کے لیے خطرہ نمایاں طور پر محسوس کیا جانے لگا ہے۔

