مارک روٹے ریاست ہائے متحدہ کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تبادلہ خیال کریں، ایسے وقت جب نیٹو کے اندر تعلقات شدید دباؤ میں ہیں۔ یہ ملاقات واشنگٹن کی طرف سے بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سخت تنقید کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔
کشیدگی ایران کے حالات سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ یورپی ممالک امریکی درخواستوں کے مقابلے میں فوجی تعاون میں محتاط رویہ رکھتے ہیں۔ دباؤ میں آنے کے بجائے، کئی ممالک اپنی پوزیشن مزید سخت کر رہے ہیں۔
کھٹاس
یہ رویہ اتحاد کے اندر بڑھتی ہوئی ٹکراؤ کا باعث بنا ہے۔ ساتھ ہی، متحدہ ریاستوں کی بطور شراکت دار بھروسہ مندی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ٹرمپ کے بیانات نے واشنگٹن کی اجتماعی معاہدوں پر عمل کرنے کی آمادگی پر شبہات کو جنم دیا ہے۔
Promotion
یورپی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے عوامی شک نیٹو کے اندر اعتماد کو کمزور کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اعتماد ہی تعاون کی بنیاد ہے۔ اگر یہ ختم ہو جائے تو اتحاد کی یکجہتی مشکل میں پڑ جائے گی۔
نیٹو سے باہر؟
امریکی صدر نے حالیہ دنوں میں یورپی اتحادیوں پر بار بار تنقید کی ہے۔ ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ مناسب حصہ نہیں ڈالتے اور جب امریکہ سے فوجی مدد طلب کی جاتی ہے تو تیار نہیں ہوتے۔
اس کے علاوہ، ٹرمپ نے کھل کر اشارہ دیا ہے کہ امریکہ نیٹو سے دستبردار ہو سکتا ہے۔ ایسے بیانات رکن ممالک میں بڑی بے چینی پیدا کرتے ہیں اور اتحاد کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی بڑھاتے ہیں۔
کشمکش کو مزید بڑھاتی ہے ہرمز کی اہم بین الاقوامی پانی کی راہ کی صورتحال، جو جنگ کی وجہ سے عملاً بند ہو گئی ہے۔ امریکہ نے اپنے یورپی اتحادیوں سے گزارش کی ہے کہ وہ گزرگاہ کی بحالی میں مدد کریں، لیکن وہ تعاون فراہم نہیں کر رہے۔
یورپی اتحاد
یورپ میں اب یہ شعور بڑھ رہا ہے کہ موجودہ حالات محض ایک تنازعہ نہیں ہیں، بلکہ نیٹو میں وسیع تر کردار کی تقسیم کا مسئلہ ہے۔ ممالک کو اپنے فرائض اور موقف پر غور کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ کئی یورپی رہنماؤں نے حالیہ عرصے میں زیادہ حد تک بغیر امریکہ کے یورپی امن فوج کے بارے میں بات کی ہے۔
واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت کو تعلقات کو مستحکم کرنے اور مزید کشیدگی کو روکنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ آیا یہ کامیاب ہوتی ہے یا نہیں، یہ غیر یقینی ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ نیٹو کے اندر کشیدگی فی الحال ختم نہیں ہوگی۔

