متعلقہ کمشنر، ڈوبراوکا شوئکا، یورپی کمشن کی نمائندگی کرتی ہوئی واشنگٹن میں اجلاس میں شامل ہیں۔ ان کی موجودگی نے یورپی یونین کے اندر بحث کو مزید بڑھا دیا ہے۔
حصہ لینا بھی ضروری
یورپی کمیشن اپنی شرکت کا جواز یہ پیش کرتا ہے کہ یورپی یونین صرف ایک مالی مددگار نہیں بلکہ ایک موثر کھلاڑی بھی ہونا چاہیے۔ میز پر بیٹھ کر، برسلز غزہ کی بحالی سے متعلق فیصلوں پر اثر ڈالنا چاہتا ہے۔
اسی دوران، بہت سے یورپی یونین کے ممالک نے خود ٹرمپ کے اجلاس میں سیاسی نمائندگی نہیں بھیجی۔ یہ ہچکچاہٹ ظاہر کرتی ہے کہ یہ اقدام یورپی یونین کے اندر کتنا حساس ہے اور رکن ممالک اس پر مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔
ٹرمپ کا کھلونا
کئی دارالحکومتوں میں خدشہ پایا جاتا ہے کہ شرکت بورڈ آف پیس کو ایک سرکاری حیثیت دے گی اور اسے جائز قرار دے گی۔ ناقدین کہتے ہیں کہ یہ اقدام موجودہ بین الاقوامی اداروں، بشمول اقوام متحدہ، کے متبادل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ تشویش اس وسیع تنقید سے جڑی ہے کہ 'ٹرمپ کا نیا کھلونا' موجودہ کثیرالجہتی نظام پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ بعض یورپی حکومتیں علانیہ کہتے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے متبادل کی حمایت نہیں کرتیں۔
ناظر کا کردار
حاضر یورپی کمشنر شوئکا کے کردار پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ متعدد متعلقہ افراد کے مطابق وہ ناظر کے طور پر موجود ہیں، نہ کہ مکمل رکن کے طور پر، اور یہ کمیشن کے مطابق شمولیت کی رسمی حیثیت کو محدود کرتا ہے۔
فرانس نے کمیشن کی شرکت پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ پیرس نے زور دیا کہ ان کے نزدیک یورپی کمیشن کے پاس یورپی یونین کے ممالک کی نمائندگی کر کے ایسے اقدام میں شامل ہونے کا اختیار نہیں ہے۔
واشنگٹن میں یہ اجلاس بورڈ آف پیس کی رسمی شروعات کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ یہ مشاورت غزہ کے مستقبل، بشمول بحالی اور تعمیر نو، کے حوالے سے ہے، جو اسرائیل-فلسطین تنازع کے تناظر میں کی جا رہی ہے۔

