خط کے دستخط کنندگان میں اٹلی، آسٹریا، ڈنمارک اور پولینڈ شامل ہیں جو انسانی حقوق کے یورپی معاہدے کی تشریح کے بارے میں "کھلے دل سے گفتگو" کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ، خاص طور پر یورپی ججوں کی تشریحات، عملی طور پر ایسے افراد کو جن کا رہائشی درجہ نہیں ہے ملک بدر کرنے میں اکثر رکاوٹ بنتی ہیں۔
یہ نو ممالک اس موضوع پر بحث کو ایک آئندہ یورپی سربراہی اجلاس کے دوران باقاعدہ بنانا چاہتے ہیں، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ کیا EU کے اندر اس کے لیے کافی حمایت موجود ہے۔ مشترکہ خط کا مواد ابھی مکمل طور پر عوامی نہیں کیا گیا ہے۔
ان کی تنقید خاص طور پر یورپی عدالت برائے انسانی حقوق (EHRM) کے فیصلوں کی طرف مرکوز ہے۔ ان نو ممالک کے مطابق یہ عدالت قومی سلامتی کے مفادات پر کافی توجہ نہیں دیتی۔
یہ اقدام EU کے رہنماؤں کے ایک سابقہ معاہدے کے بعد آیا ہے جس میں ’محفوظ تیسرا ملک‘ کے تصور کو وسعت دینے پر اتفاق ہوا تھا۔ اس کے تحت پناہ گزینوں کو EU کے باہر ایسے ممالک میں منتقل کیا جا سکتا ہے جہاں وہ اپنی پناہ درخواست کے عمل کا انتظار کریں۔ یہ طریقہ کار EU میں ہجرت کے بہاؤ کو محدود کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
انسانی حقوق کی تنظمیوں نے اس نئی پالیسی پر سخت تنقید کی ہے۔ وہ یہ بات اجاگر کرتے ہیں کہ EHRM اور دیگر EU اداروں نے ماضی میں بار بار فیصلہ دیا ہے کہ مجرم ہونے یا جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود تارکین وطن کے حقوق کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔
اٹلی کی وزیر اعظم میلونی کے مطابق موجودہ یورپی انسانی حقوق کے فریم ورک کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ “نظام کی زیادتی” کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ کا حق ایسے افراد کی مستقل موجودگی کا سبب نہیں ہونا چاہیے جو معاشرے کے لیے خطرہ ہیں۔
اسی دوران EU کے اندر بھی اس پالیسی پر تنقید سنائی دیتی ہے۔ سوشلسٹ پارٹیوں اور کچھ EU کمشنرز نے خبردار کیا ہے کہ EHRM کی عدالتی رویے کو کمزور کرنا پورے یورپ میں انسانی حقوق کے تحفظ کے نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ وہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس سے قانونی عدم مساوات اور غیر منصفانہ ملک بدری کے واقعات سامنے آسکتے ہیں۔

