یہ فیصلہ ایک پولش جوڑے کے بارے میں تھا جو جرمنی میں شادی کرچکا تھا مگر پولینڈ میں اسے تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ ججوں کے مطابق اس انکار سے ان حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے جو EU کے شہریوں کو تمام EU ممالک میں حاصل ہیں۔ ان کی عائلی زندگی کو ان کے گھر کے ملک میں بھی قانونی طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔
ججوں کا کہنا ہے کہ تمام حکومتوں کو بیرون ملک کی شادیوں کو مساوی طور پر تسلیم کرنا چاہیے، خواہ ان کے اپنے ملک میں ہم جنس شادیوں کے قوانین کچھ بھی ہوں۔ EU کے ممالک اپنی شادیوں کے قانون کو برقرار رکھ سکتے ہیں، مگر انہیں EU شہریوں کی آزادیِ نقل و حرکت اور عائلی زندگی کا احترام کرنا ہوگا۔
فیصلے کے مطابق پولینڈ کی پابندیاں ایک بنیادی حق، یعنی EU میں آزادیِ نقل و حرکت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اگر شادی کسی ایک EU ملک میں ہوئی ہے تو شہریوں کو یقین ہونا چاہیے کہ اس شادی کے قانونی نتائج دوسرے ملک میں بھی ہوں گے۔
ججوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم جنس شادی کو تسلیم نہ کرنا جوڑوں کی روزمرہ زندگی پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔ اس میں رہائشی حیثیت، انتظامی کارروائیاں اور قانونی تحفظات تک رسائی شامل ہے جو ایک تسلیم شدہ شادی سے حاصل ہوتے ہیں۔
پولینڈ کے قوانین ہم جنس جوڑوں کی شادی یا رجسٹرڈ شراکت داری کو تسلیم نہیں کرتے۔ ججوں کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ پولینڈ ان شہریوں کی عائلی زندگی کو تحفظ دینے کے لیے مناسب قانونی فریم ورک مہیا نہیں کرتا۔
EU عدالت انصاف نے پہلے بھی کہا تھا کہ پولینڈ اس معاملے میں ناکام ہے۔ پہلے کے فیصلوں میں کہا گیا تھا کہ ہم جنس جوڑوں کے لیے کوئی انتظام نہ ہونا نجی اور عائلی زندگی کے احترام کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ نیا فیصلہ بھی اسی کو آگے بڑھاتا ہے۔
حالیہ فیصلے میں بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ قانونی شناخت کی ضرورت ہے جو متعلقہ جوڑوں کو استحکام اور وضاحت فراہم کرے۔ عدالت نے دوبارہ کہا کہ ایسی انتظامیہ کا نہ ہونا EU شہریوں کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزی ہے۔
اب پولش حکومت کو اقدام کرنا ہوگا تاکہ بیرون ملک شادیوں کو تسلیم کیا جا سکے۔ اگرچہ یہ فیصلہ پولینڈ کو ہم جنس شادیوں کو ملک میں قانونی حیثیت دینے کا پابند نہیں کرتا، مگر दूसरे EU ممالک میں کی گئی شادیوں کو تسلیم کر نے پر مجبور کرتا ہے تاکہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہوسکے۔

