یورپی کمیشن گوگل پر الزام عائد کرتا ہے کہ اس نے اشتہاری بازار میں منظم طریقے سے اپنی ہی کمپنیوں کو ترجیح دی۔ اس عمل سے دیگر فراہم کرنے والے پسماندہ ہو گئے جبکہ صارفین کے پاس انتخاب کی آزادی کم ہو گئی۔ جرمانہ عائد کرنے کا مقصد برسلز کی طرف سے یہ واضح کرنا ہے کہ بڑے کثیر القومی اداروں کو بھی یورپی قواعد و ضوابط کی پابندی کرنی ہوگی۔
یہ قواعد خاص طور پر ڈیجیٹل سروسز ایکٹ اور ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ میں درج ہیں۔ ان کا مقصد نہ صرف پیدا کرنے والوں بلکہ صارفین کو بھی تحفظ فراہم کرنا اور ایک مساوی میدان قائم کرنا ہے، جو صرف یورپی اندرونی بازار تک محدود نہیں بلکہ عالمی نیٹ پر بھی نافذ ہے۔ یہ اقدامات ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کو ضرورت سے زیادہ اثرورسوخ رکھنے سے روکنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے اس یورپی حکمت عملی پر سخت تنقید سامنے آئی ہے۔ امریکی کمپنیاں سمجھتی ہیں کہ یورپی قوانین حد سے تجاوز کر رہے ہیں اور ان کے کاروباری عمل میں مداخلت کے مترادف ہیں۔ امریکی کانگریس میں سماعتیں جاری ہیں جن میں یورپی یونین کی طرف سے امریکی کاروباروں کی سنسرشپ کی بات کی جا رہی ہے۔
گوگل کے خلاف یہ تنازعہ وسیع تر تجارتی کشیدگیوں کے تناظر میں ہے۔ واشنگٹن نے حال ہی میں بہت سی یورپی مصنوعات پر پندرہ فیصد اضافی درآمدی محصول عائد کیا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ امریکہ نے اپنی مارکیٹوں کے تحفظ کے بڑھتے ہوئے رجحان میں شامل ہو گیا ہے، جو یورپی معیشت کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔
گزشتہ ماہ کمیشن کی سربراہ اورسولا فون ڈیر لائن نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا جس میں برسلز نے ردعملی اقدامات سے گریز کیا کیونکہ امریکی صدر نے محدود محصول (15٪) عائد کیا تھا۔ دیگر ممالک کو کہیں زیادہ محصولات کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین کے مطابق فون ڈیر لائن نے امریکی دباؤ کے سامنے بہت جلد سر جھکا دیا۔
اس ہفتے یورپی پارلیمنٹ میں یہ تعین کیا جائے گا کہ برسلز اور واشنگٹن کے درمیان معاہدہ قائم رہتا ہے یا نہیں۔ یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کو موقع मिलेगा کہ وہ اس معاہدے پر رائے دیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ اسے منظوری دیں گے یا تبدیلیوں کا مطالبہ کریں گے۔ اس سے فون ڈیر لائن کی حیثیت بھی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔
گوگل اور یورپی کمیشن کے درمیان قانونی جنگ کئی سالوں سے جاری ہے۔ دونوں فریقوں کے وکلاء نے تفصیل سے مشاورت اور قانونی کارروائیاں کیں۔ پھر بھی برسلز نے جرمانہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ آنے والے ہفتوں میں معلوم ہوگا کہ دونوں فریقیں مصالحت کی طرف مائل ہیں یا تنازعہ مزید شدت اختیار کرے گا۔

